اشعار کی صحت کے متعلق چوتھا کالم

کالموں میں لکھے جانے والے غلط اشعار کا تعاقب
اشعار کی صحت…. (4)

محترم خالد مسعود خان نام وَر شاعر اور کالم نگار ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ میرے جیسا طالبِ علم اگر آں جناب کے سامنے زانوئے تلمّذ تہ کر لے تو یہ میرے لیے کسی اعزازوافتخار سے کم نہ ہو گا۔اُنھوں نے 26 جولائی کے اپنے کالم” کٹہرا“ میں میر تقی میر کا شعر کسی تحقیق کے بغیر ہی یوں لکھ دیا ہے۔
میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں
میر تقی میر نے اپنے شعر کے پہلے مصرعے میں” سادہ“ کی جگہ” سادے“ جب کہ دوسرے مصرعے میں” لونڈے“ نہیں بلکہ” لڑکے“ کہا ہے یعنی۔
میر کیا سادے ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اُسی عطّار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں
جناب ارشاد احمد عارف نے 26 جولائی کے اپنے کالم” طلوع “ میں حضرت علامہ محمد اقبال کا یہ شعر لکھنے میں عجلت کر دی۔
چاک کر دی تُرکِ ناداں نے خلافت کی عبا
سادگی مسلم کی دیکھ، اوروں کی عیّاری بھی دیکھ
” بانگِ درا “کی نظم” غرّہ ء شوال یا ہلالِ عید “ کے اس شعر کے پہلے مصرعے میں” عبا “کی بجائے” قبا“ کا لفظ ہے۔
24 جولائی کے اپنے کالم میں محترم سعید آسی نے ساحر لدھیانوی کا یہ شعر لکھا ہے۔
مفلسی حسِ لطافت کو مٹا دیتی ہے
بھوک اطور کے سانچے میں نہیں ڈھل سکتی
جب کہ” کُلّیاتِ ساحر “ اور ساحر لدھیانوی کی کتاب” تلخیاں “ میں شامل نظم” مادام “ کے اس شعر کا دوسرا مصرع اس طرح ہے۔
بھوک آداب کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکتی
19 جولائی کو جناب اوریا مقبول جان اپنے کالم کے آخر میں حضرت علامہ محمد اقبال کا یہ شعر لائے ہیں۔
ہمالہ کے چشمے ابلنے لگے
گراں خواب چینی سنبھلنے لگے
بالِ جبریل کی نظم ساقی نامہ کے اس شعر کے مصرعوں کی ترتیب غلط ہے یعنی پہلا مصرع، دوسرا جب کہ دوسرا مصرع پہلا ہے۔
6 اگست کو اپنے کالم” ناتمام“ میں جناب ہارون الرّشید نے علامہ محمد اقبال کے اس شعر کا دوسرا مصرع غلط تحریر کر دیا ہے۔
کافر کی موت سے بھی لرزتا ہو جس کا دل
کہتا ہے اس سے کون مسلماں کی موت مر
جب کہ علامہ محمد اقبال نے” ضربِ کلیم“ میں دوسرا مصرع یوں کہا ہے۔
کہتا ہے کون اسے کہ مسلماں کی موت مر
محترم ہارون الرّشید نے ہی 30 جولائی کو امیر مینائی کا ایک ہی شعر اپنے کالم میں دو بار لکھا ہے۔کالم میں ایک ہی شعر دو مرتبہ لکھنے کی منطق اور حکمت تو ہماری سمجھ سے بالاتر ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ دونوں بار ہی شعر غلط تحریر کیا گیا ہے۔
خشک ڈھیروں تنِ شاعر کا لہو ہوتا ہے
تب نظر آتی ہے اک مصرعہ ء تر کی صورت
” ڈھیروں لہو“ کی ترکیب بھی بڑی ہی عجیب سی ہے دیوانِ امیر میں یہ شعر یوں موجود ہے۔
خشک سیروں تنِ شاعر کا لہو ہوتا ہے
تب نظر آتی ہے اک مصرعِ تر کی صورت
” سرراہے“ میں لکھے جانے کچھ اشعار کا تذکرہ بھی بہت ضروری ہے۔18 جولائی کو یہ شعر ردیف میں تحریف کے ساتھ ساتھ بحر سے بھی خارج کر کے بہت دُور پھینک دیا گیا ہے۔
جانتا ہوں ثواب زہدو اطاعت
پر طبیعت ادھر نہیں جاتی
” دیوانِ غالب “ مطبوعہ نظامی پریس بدایون کے مطابق غالب کا یہ شعر یوں ہے۔
جانتا ہوں ثوابِ طاعت وزہد
پر طبیعت اِدھر نہیں آتی
اسی دن کے” سرراہے“ میں ایک بہت ہی زبان زدِ عام شعر بھی غلط لکھ دیا گیا ہے۔
نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار اٹھے گی
یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں
کلب حسین نادر کا یہ شعر اگرچہ” سرراہے“ میں بالکل ہی بگاڑ دیا گیا ہے مگر اکثر لوگوں کے نزدیک یہ شعر اس طرح درست سمجھا جا رہا ہے۔
نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار اِن سے
یہ بازو مرے آزمائے ہوئے ہیں
مگر حقیقت اس کے بھی برعکس ہے اس لیے کہ حسرت موہانی کی مرتّب کردہ کتاب” انتخابِ سخن جِلد نہم“ جسے 1983 میں اتر پردیش اردو اکادمی لکھنؤ نے شائع کیا اُس میں یہ شعر اس طرح موجود ہے۔
نہ خنجر اُٹھے گا نہ تلوار اُن سے
وہ بازو مرے آزمائے ہوئے ہیں
20 جولائی کے” سرراہے“ میں مرزا غالب کا کہ کر ایک مصرع یوں غلط تحریر کیا گیا ہے۔
بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا
مدیر” سرراہے“ سے بہ صد احترام گزارش ہے کہ یہ مصرع غالب کا نہیں بلکہ مصطفی خاں شیفتہ کا ہے۔درست مصرع مکمل شعر کے ساتھ اس طرح ہے۔
ہم طالبِ شہرت ہیں، ہمیں ننگ سے کیا کام
بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا
جناب حسن نثار ایک سینئر صحافی ہیں۔ 6 اگست کے اپنے کالم” چوراہا“ میں انھوں نے اسلم انصاری کے اس شعر کی ردیف میں تحریف کر دی ہے۔
دیوارِ خستگی ہوں مجھے ہاتھ مت لگا
میں گر پڑوں گا دیکھ سہارا نہ دے مجھے
جب کہ اسلم انصاری نے اپنی کتاب” خواب وآگہی “ میں دوسرا مصرع یوں کہا ہے۔
میں گِر پڑوں گا دیکھ مجھے آسرا نہ دے
سعداللہ جان برق 17 جولائی کو لکھتے ہیں۔
زہر کھانے کی تو عادت ہے زمانے والو
اب کوئی اور” دوا “دو کہ میں زندہ ہوں ابھی
جالندھر سے تعلق رکھنے والے شاعر سدرشن فاخر جو 2008 میں فوت ہو چکے ہیں اُن کے شعر کا پہلا مصرع اس طرح ہے۔
زہر پینے کی تو عادت تھی زمانے والو
اسی غزل کا مقطع بھی سعداللہ جان برق نے غلط لکھا ہے۔
چلتی راہوں میں یوں ہی آنکھ لگی تھی شاید
بھیڑ لوگوں کی ہٹا دو کہ میں” زندہ “ہوں ابھی
مقطعے کا پہلا مصرع اس طرح ہے۔
چلتی راہوں میں یوں ہی آنکھ لگی ہے فاخر
18 جولائی کے کالم کے شروع میں سعداللہ جان برق نے محبوب خزاں کا یہ شعر لکھا ہے۔
حال ایسا کہ تم سے کہیں
ایک جھگڑا نہیں کہ تم سے کہیں
پہلا مصرع بحر سے خارج بھی ہے اور بے معنی بھی۔محبوب خزاں کی کتاب” اکیلی بستیاں“ کے صفحہ 77 پر یہ مصرع یوں موجود ہے۔
حال ایسا نہیں کہ تم سے کہیں
4 اگست کو ڈاکٹر حسین احمد پراچہ نے اپنے کالم” حکمِ اذاں“ میں یہ شعر تحریر کیا ہے۔
مدتیں گزریں، تری یاد بھی آئی نہ ہمیں
اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں
افسوس کہ فراق گورکھپوری کے اس شعر کے اسی غلط مصرعے کو کالم کا عنوان بھی بنا دیا گیا بے۔فراق گورکھپوری کی کتاب” چراغاں “ کے مطابق درست مصرع اس طرح ہے۔
ایک مدّت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیں
7 اگست کو محترم ارشاد احمد عارف نے علامہ محمد اقبال کے اس شعر کا دوسرا مصرع وزن سے خارج کر دیا۔
بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے
مسلماں نہیں یہ خاک کا ڈھیر ہے
دوسرے مصرعے میں لفظ” یہ “اضافی ہے اور” خاک“ کی بجائے” راکھ“ کا لفظ ہے
7 اگست کو جناب سجاد جہانیہ نے جون ایلیا کے اس شعر کی ردیف بدل ڈالی ہے۔
اپنے سر اک بلا تو لینی تھی
میں نے وہ زلف اپنے سر لے لی
جون ایلیا کی کتاب” لیکن “ میں درست مصرع یوں ہے۔
میں نے وہ زلف اپنے سر لی ہے
محترم سعود عثمانی نے 9 اگست کے اپنے کالم میں اس شعر کا دوسرا مصرع بالکل ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔
ہم سادہ ہی ایسے تھے، کی یوں ہی پذیرائی
جب ذکرِ بہار آیا، سمجھے کہ بہار آئی
” نسخہ ہائے وفا“ میں فیض احمد فیض نے اپنی غزل کے مطلعے کا دوسرا مصرع یوں کہا ہے۔
جس بار خزاں آئی، سمجھے کہ بہار آئی
وسعت اللہ خان نے 11 اگست کو جون ایلیا کا یہ شعر لکھنے میں غلطی کر دی۔
میری ہر بات بے اثر ہی رہی
نقص تھا کچھ میرے بیان میں کیا
جون ایلیا کی کتاب” شاید“ میں دوسرا مصرع اس طرح ہے۔
نَقص ہے کچھ مرے بیان میں کیا
حیات عبداللہ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے