اصغر اعظم

اصغر اعظم
یہ وہ زمانہ تھا جب جموں اور سری نگر میں تعلیمی سہولتیں اتنی تھیں کہ ایک طالب علم نے کہا میں اس وقت چوتھی جماعت میں تھا جب میں نے پہلی مرتبہ اسکول ٹیچر دیکھا تھا، ان دنوں وہاں ایک ہیڈ ماسٹر اپنی کلاس کے بچوں کو تقریر کرنا سکھا رہا تھا، ہر بچے کو بتا تا کس طرح بولنا ہے ، ایک بچہ آیا تو ہیڈ ماسٹر نے کہا، تم صرف یہ سیکھو کیسے چپ ہونا ہے ؟ یہ بچہ بڑا ہو کر پاک فضائیہ کا پہلا اور دنیا کا سب سے کم عمر کمانڈر انچیف بنا، پوری قوم نے اسے شاہین کہا مگر حنیف رامے نہ کہتے ، کسی نہ وجہ پوچھی تو بولے میں جب انہیں شاہین کہہ کر بلاؤں لوگ سمجھتے ہیں میں اپنی پہلی بیوی کو بلا رہا ہوں۔
دیکھنے میں اپنے بیٹے اصغر عمر خان پر گئے ہیں، بچپن ہی سے ان میں سیاست دانوں والی صلاحیتیں موجود تھیں، اگر کلاس میں کامیاب نہ ہوتے تو گھر والوں کو یہ نہ کہتے کہ میں ناکام ہوا ہوں، کہتے ہیں دھاندلی ہوئی ہے ، والد اس قدر سخت تھے کہ انہیں لگتا میں گھر میں نہیں اسکول میں پیدا ہوا ہوں، آدمی نہیں الٹا ہو کر دیکھے تو سیدھے سادے آدمی ہیں، وطن کا دفاع کر کے اب یہ حال ہو گیا ہے کہ دوران گفتگو بھی دفاعی پوزیشن میں رہتے ہیں، کسی سے سے پانچ روپے بھی وصول کرنے ہوں تو ضرور کریں گے ، چاہے وصول کرنے میں سو روپے لگ جائیں، اس قدر ذمہ دار کہ اگر انہوں نے آپ کو نیند کی گولی کھلانا ہو تو وقت پر کھلائیں گے ، چاہے اس کیلئے انہیں آپ کو سوتے میں اٹھانا پڑے ، جو غلطی ایک بار کی، پھر اسے کبھی نہیں دہرایا، ہمیشہ نئی غلطی کی، عمر اور ارادہ پختہ البتہ عمر کا پوچھو تو عمر اصغر خان کا بتانے لگ جاتے ہیں، ویسے بھی ہمارے ہاں سیاست کا یہ حال ہے کہ لیڈر عوام کے حال کے بجائے ان کے ماضی کو ہی بہتر بناتے ہیں، وہ بھی ایسے کہ عوام کا وہ حال کرتے ہیں کہ اسے ماضی بہتر لگنے لگتا ہے ۔
اصغر خان کہتے ہیں کہ سیاست میں میرا آنا ایک حادثہ ہے ، سیاست کو یہ حادثہ 1968 میں پیش آیا، بھٹو صاحب نے کہا تھا ایوبی دور میں میری نظر بندی نے دو شخصیتوں کو لیڈر بنایا، ایک بیگم بھٹو تھی اور دوسرے بے غم اصغر ، خان صاحب نے اسکول میں اتنی بار اے بی سی ختم نہ کی ہو گی جتنی سیاسی اتحاد بنا بنا کر کی، مثلاً، جی پی، ٹی آئی، پی ای اے ، ایم آر ڈی، اور پی ڈے اے وغیرہ وغیرہ۔ وہ فاتح سیاست ہیں، اندرون ملک انکا دورہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ان کے دورے کا سنتے ہی حکومت ایمبولینس روانہ کرتی ہے ۔
جب فوج میں تھے تو ہمیشہ خطرناک کام سب سے پہلے خود کرتے تھے ، پھر جونیرز کو اس کی اجازت دیتے یہاں تک بھی شادی بھی پہلے خود کی، ہوائی اور ہوائی جہاز اڑانے کے ماہر ہیں، کہتے ہیں جب میں ائیر مارشل تھا تو کبھی کسی نے شکایت نہ کی کہ چھلانگ لگتے ہوئے اس کا پیرا شوٹ نہیں کھلا، پی آئی اے میں آئے تو اسے اتنا آرگنائز کیا کہ ہر کام کیلئے الگ اسٹاف رکھا، یہاں تک کہ مسافروں کی خدمات کرنے کیلئے الگ عملہ ہوتا اور نہ کرنے کیلئے الگ، خان صاحب آج کل بھی PLANکوPLANEسمجھتے ہیں، ڈرائیور ایسے کہ ان کی گاڑی کے آگے آنے والے کو اتنا خطرہ نہیں ہوتا جتنا پیچھے آنے والے کو۔
عمر اصغر خان دراصل کم عمر اصغر خان ہیں، اس لئیے معمر اصغر خان صرف بو عمر اصغر خان کے مشورے پر ہی عمل کرتے ہیں، کہتے ہیں، میری پارٹی اکیلی ہی سہی پی پی کو ہرا سکتی ہے اور 1990 میں انہوں نے اس کے لئے پی پی سے اتحاد کر کے اس کو ہرا کر دکھایا، واحد سیاست دان ہیں جو مقابلہ میں کھڑے بھی ہوں تو ہار جائیں، جتنی محنت سے وہ ہارتے ہیں اس سے کم محنت پر بندہ جیت سکتا ہے ، ان کا حلقہ انتخاب ہمیشہ ہلکا انتخاب رہا ، ہر الیکشن پر وعدہ کرتے ہیں کہ الیکشن کے بعد اس حلقے کو بدل کر رکھ دیں گے ، واقعی الیکشن کے بعد اس حلقے کو بدل کر کسی اور جگہ سے الیکشن لڑتے ہیں، صرف چار بار الیکشن ہارے جس کی ایک وجہ تو یہ رہی کہ وہ صرف چار بار ہی الیکشن کیلئے کھڑے ہوئے ، ہار تو انہیں اس قدر پسند ہے کہ کوئی کسی اور کیلئے لایا ہو تو اپنی گردن آگے کر دیتے ہیں، بقول پیر پگارہ انہیں ہمیشہ کرسی ملی مگر اپنے گھر کے لاؤنج میں، یہ وہ ہوا باز ہیں جنہوں نے تمام حادثے ہائی وے پر کئیے ، وہ بھی یو کہ لوگ ہائی وے کی بجائے ہائے وے کہہ اٹھے ، وہ اسی سیاسی پارٹی کے سربراہ ہیں جسے ووٹ لینے کیلئے کمپین نہیں چلانا پڑتی، امید وار لینے کیلئے بھی یہی کچھ کرنا پڑتا ہے ۔
ونسٹن چرچل نے کہا تھا سیاست اور جنگ دونوں ایک جیسی خطرناک ہوتی ہیں، البتہ جنگ میں آپ صرف ایک بار مارے جاتے ہیں لیکن سیاست میں بار بار، اور اگر سیاست دان خان صاحب جیسا ہو تو ہر بار، اگر چہ ان کا دبدبہ دبا گیا ہے ، مگر پھر بھی ہر بات کہتے ہیں میری نہ مانی گئی تو اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا، اور بقول شفیق الرحمن یہ کونسا مشکل کام ہے ، اس کیلئے صرف دو اینٹیں ہی تو چاہئیے ہوتی ہیں، فرماتے ہیں ہم ملک دیں گے ، لوگ کہتے ہیں اصغر خان صاحب تاریخ کو دہراتے ہیں مگر اس سے سبق نہیں سیکھتے حالانکہ وہ اس مقام پر ہیں کہ تاریخ کو خود ان سے سبق سیکھنا چاہئیے ، ذوالفقار علی بھٹو صاحب سے خان صاحب کو ایسے نام سے پکارتے جس سے اتنی محبت ظاہر نہیں ہوتی جتنی سبزیوں سے ویسے تو محبت اور روزنامہ جنگ میں سب جائزہ ہوتا ہے ۔
اصغر خان صاحب وہ دوسروں کی خامیوں کی اس قدر دل جمعی سے اصلاح کرتے ہیں کہ بعد میں پتہ چلتا ہے کہ موصوف ساتھ خوبیوں کی بھی اصلاح کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ ہر مصیبت کا سامنا مسکرا کر کرتا ہوں، یہ بات انہوں نے بیگم مہناز رفیع کے سامنے کہی، انہیں اپنی پارٹی کے ہر کارکن کا نام نہیں آتا ہے ، لیکن اس کی وجہ ان کا حافظہ نہیں ہے ، کارکنوں کی تعداد ہے خان صاحب میں اس قدر اس استقلال کو یوں چلایا کوئی ہیڈ ماسٹر کمیٹی کا اسکول چلاتا ہے ۔
ایک بار انہوں نے تقریری میں اپنی زندگی کی کہانی ان لفظوں میں سمیٹی میں وطن کا سپاہی تھا، وطن کا سپاہی ہوں، اور وطن کا سپاہی ہی رہوں گا، تو پیچھے سے آواز آئی، ترقی نہ کرنا، اس کے باوجود وہ جس امیدوار کو چاہیں الیکشن میں جتوا سکتے ہیں، انہیں بس اتنا ہی کرنا پڑتا ہے ، اس امیدوار کے خلاف کھڑے ہونے پڑتا ہے ، ویسے ایک تجزیہ نگار کے خیال میں وہ خود بھی الیکشن جیت سکتے ہیں، بس انہیں اتنا کرنا ہے کہ وہ اس حلقے سے الیکشن لڑیں جہاں سے اصغر خان الیکشن لڑ رہا ہو۔
ڈاکٹر محمد یونس بٹ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے