اسیر زلف کرے قیدی کمند کرے

اسیر زلف کرے قیدی کمند کرے
پسند اس کی ہے وہ جس طرح پسند کرے
ہمیشہ چشم ہے نمناک ہاتھ دل پر ہے
خدا کسو کو نہ ہم سا بھی دردمند کرے
بڑوں بڑوں کو جھکاتے ہی سر بنے اس دم
پکڑ کے تیغ وہ اپنی اگر بلند کرے
بیان دل کے بھی جلنے کو کریے مجلس میں
اچھلنے کودنے کو ترک اگر سپند کرے
نہ مجھ کو راہ سے لے جائے مکر دنیا کا
ہزار رنگ یہ فرتوت گو چھچھند کرے
سواے اس کے بڑی داڑھی میں ہے کیا اے شیخ
کہ جو کوئی تجھے دیکھے سو ریش خند کرے
دکھاوے آنکھ کبھو زلف کھولے منھ پہ کبھو
کبھو خرام سے رستے کے رستے بند کرے
اگرچہ سادہ ہے لیکن ربودن دل کو
ہزار پیچ کرے لاکھ لاکھ فند کرے
سخن یہی ہے جو کہتے ہیں شعر میر ہے سحر
زبان خلق کو کس طور کوئی بند کرے
میر تقی میر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے