آرزوئے یار ہے , آ کر ملو

آرزوئے یار ہے , آ کر ملو
زندگی بیزار ہے, آ کر ملو
بار ہا اُس نے کہا ہے پیار سے
گر تمھیں بھی پیار ہے,آ کر ملو
آ کے میرے شہر میں اُس نے کہا
کوچہءِ دلدار ہے , آ کر ملو
عالم وحشت میں کیسے ہم جئیں
زندگی دشوار ہے , آ کر ملو
آؤ کہ مٹ جائیں ساری دوریاں
عشق کا اصرار ہے , آ کر ملو
دل تو بہلے گا تمھارے وصل سے
ہجر بھی آزار ہے , آ کر ملو
منزّہ سیّد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے