عرصئہ دہر کی جُھلسی ہوئی ویرانی میں

عرصئہ دہر کی جُھلسی ہوئی ویرانی میں
ہم کو رہنا ہے پہ یونہی تو نہیں رہنا ہے
اجنبی ہاتھوں کا بے نام گرانبار ستم
آج سہنا ہے ہمیشہ تو نہیں سہنا ہے
جب میکاؤلی نے سولہویں صدی میں ” دا پرنس” لکھی تو اُس نے یورپ کی سیاسی زندگی میں ایک بھونچال برپا کر دیا- وہ یورپ جو اجتماعی سیاسی اور سماجی شعور سے عاری تھا اور جہاں پارلیمنٹ کی حثیت مسلمہ نہ تھی اور انتخابات محض ذاتی مخالفوں کی سرکوبی اور ایزا رسانی کا باعث تھے- باالکل ہمارے سماج ہی کی طرح سیاسی مخالفین ایک دوسرے کے ڈھور ڈنگر مار دیا کرتے تھے یہاں تک کہ کھڑی فصلیں تک تباہ کر دیا کرتے تھے- طعن و تشنیہہ، گالم گلوچ اور دست درازی سیاسی پنڈتوں کا معمول تھا-
کوئی قانون اور ضابطہ حتمی طور پر نہ تھا- یہ وہی دور تھا کہ جب یورپ اپنی دوبارہ بحالی یا Rehabilitation کیلئے کوشاں تھا یا پھر آپ اسے Renaissance کہہ سکتے ہیں۔ اِسی زمانے میں ہارس ٹریڈنگ اور فلور کراسنگ جیسی اصطلاحات نے جنم لیا- میکاؤلی نے اُس وقت کے بھٹکے ہوئے یورپ کی سیاسی اور سماجی تربیت کی اور اُس کی یہ کوشش خاصی حد تک کامیاب بھی رہی۔ اُس نے پارلیمنٹ کی حثیت اور اہمیت کواُجاگر کیا اور لوگوں کو یہ یقین دلایا کہ مہذب معاشرے کے قیام کیلئے سیاسی رواداری اور مربوط سیاسی نظام کس قدر اہمیت کا حامل ہے ۔ یہ اِسی تربیت کا نتیجہ تھا کہ لگ بھگ ایک صدی بعد انقلابِ فرانس نے حقیقی پارلیمنٹ اورقانون کی بالادستی قائم کردی۔ حالانکہ اس سے پہلے Divine Right of the king یا بادشاہ ہی کا بیٹا بادشاہ کا فلسفہ اُس معاشرے میں مستعمل تھا- انقلاب فرانس کا سب سے بڑا محرک چرچ تھا جو امورِ مملکت میں اپنی ماورائی توجیہات کی بنا پر خلل ڈالتا تھا اور ہر شئے کو مذہب کے سانچے میں ڈھالنے کے درپے تھا- اُس وقت یہ خیال کیا جاتا تھا کہ سیاست عام آدمی یا معاشی اعتبار سے کمزور یا صرف چند تسلیم شدہ مذہبی پیشواؤں کے علاوہ اور کسی کا استحقاق نہیں-
ان حالات میں اُس وقت کے دانشوروں نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ چرچ اور پارلیمنٹ دو علیحدہ ادارے ہیں لہذا ان دونوں کا انضمام معاشرے میں بے سکونی اور اضطراب کا باعث ہے سو ان دونوں اداروں کو اپنی اپنی حثیت اور اختیار میں رہ کر کام کرنا چاہیئے۔ ایک دل دہلا دینے والی خونریزی اور طویل جنگ وجدل کے بعد آخر ان دونوں اداروں نے اپنی بقا اور استحکام کی خاطر ایک دوسرے کی انفرادی حثیت کو تسلیم کر لیا- اُسی کے نتیجے میں عیسائیوں کا فرقہ protestants بھی معرضِ وجود میں آیا- اس تمہید کا بنیادی مقصد اپنے معاشرے میں پائی جانے والی وہ افراتفری ہے جو اب کسی حد تک سیاسی ابتری کا روپ دھار چُکی ہے اور جس کے ذمہ داران خود کو عقلِ کُل سمجھتے ہیں- جس معاشرے میں سیاست غیر تعلیم یافتہ، غیر مہذب اور غیر شائستہ لوگوں کے ہاتھوں میں ہوگی وہاں بے سکونی اور اضطراب عین فطری سی بات ہے۔ کل جب پاناما کا فیصلہ آیا تو میرے ذہن میں یہ سب باتیں چشمِ زدن میں ایک ہیولے کی طرح آئیں اور گزر گئیں اور مجھے اپنا مُلک چند لمحوں کیلئے سولہویں صدی کا یورپ ہی لگنے لگا جہاں سچائی اور انصاف مفقود تھا اور محض ذاتی انا کی تسکین کیلئے لوگ بڑے سے بڑا جرم بڑے فخر سے کرتے تھے- جہاں انصاف اور راست گوئی سے ناآشنائی تھی، جہاں آئین و قانون کی تزہیک اشرافیہ ہونے کی دلیل تھی- مگر اس کے ساتھ ہی مجھے چند لمحوں کیلئے یوں محسوس ہوا کہ جیسے شائد اب جُرم کرنے والے اگرچہ ڈھٹائی اور بے حیائی کا تماشا تو رچائے ہوئے ہیں مگر ان کی آنکھوں میں احساسِ ندامت بھی ہے اور یہ حیرت اور سراسیمگی کےنئے احساس سے بھی دوچار ہیں- مگر اب وہ وقت زیادہ دور نہیں کہ جب اس مُلک کے تھانے اور سول سرونٹس کو اپنی عزتِ نفس بحال کرنا ہے۔ مجھے نوجوان افیسرز سے مل کر خوشی ہوتی ہے کہ اُن میں سے اکثریت رشوت سے متنفر ہیں، وہ جھوٹی ایف آئ آر کاٹنا گناہِ کبیرہ تصور کرتے ہیں- مجھے آج کی عدالت کے اذہان میں بھی ایک نئ مشعل روشن ہوتی ہوئی دکھائ دے رہی ہے جو بدکرداری اور بددیانتی کی تاریکیوں کو مٹانے کا عزم لیئے ہوئے ہے۔ میں سوچ رہا تھا کہ وزیرِ اعظم مُلک کی سب سے بڑی عدالت سے بددیانتی کی سند لینے کے بعد شائد اعلی ظرفی کا مظاہرہ کرتا اور خود کو متنارع ہو جانے کی بنا پر اپنے عپہدے سے سُبکدوش ہوجاتا مگر پھر خیال آیا کہ ابھی اس مُلک کی سیاست پوری طرح سے اور صحیح معنوں میں اہلِ علم اور حقیقی دانشوروں سے محروم ہے سو ایسی خواہش خود اذیتی کے سوا کچھ نہیں۔
مگر میرا پختہ یقین ہے کہ پاناما کا یہ فیصلہ اگرچہ اتنا توانا اور طاقت ور نہیں مگر پھر بھی اس کی بازگشت آنیوالے حُکمرانوں کے ذہنوں میں گونجتی رہئے گی- اور مجھے اس بات کا بھی پورا یقین ہے کہ اب پاکستان کی بیوروکریسی اور عدلیہ نے Renaissance کا عہد کر لیا ہے اور ہم بھی جلد اس مُلک میں انصاف اور قانون کی حاکمیت کی مجسم تصویر دیکھ سکیں گے جوبددیانت حاکموں کے بغیر ہوگی-
محبوب صابر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے