عقیدۂ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم اور ہماری ذمہ داری

عقیدۂ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم اور ہماری ذمہ داری
جامع ترمذی
کتاب: فتنوں کا بیان
باب: جب تک کذاب نہ نکلیں قیامت قائم نہیں ہو گی
حدیث نمبر: 2219
حدیث نمبر: 2219
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَلْحَقَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي بِالْمُشْرِكِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَحَتَّى يَعْبُدُوا الْأَوْثَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي ثَلَاثُونَ كَذَّابُونَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ:
ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ میری امت کے کچھ قبیلے مشرکین سے مل جائیں، اور بتوں کی پرستش کریں، اور میری امت میں عنقریب تیس جھوٹے (دعویدار) نکلیں گے، ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں خاتم النبین ہوں میرے بعد کوئی (دوسرا) نبی نہیں ہوگا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
آج حالات کے پیشِ نظر اس نازک مگر نہایت اہم موضوع پر قلم اٹھانے کی جسارت کر رہی ہوں۔ ہر کچھ عرصے بعد اس طرح کے غیر مناسب حالات سامنے آتے ہیں اور اہلِ ایمان کے دل چیر کر رکھ دیتے ہیں۔ ان تمام حالات میں ایک المیہ تو یہ نظر آتا ہے٬ کہ شاید ہم میں سے اکثریت اپنی اصل ذمہ داریوں سے ناواقفیت کی وجہ سے ان باتوں کو ترجیح دیتی ہے٬ جو کہ ان کے اختیار سے باہر ہیں۔
یاد رکھیں کہ آپ سے سوال صرف آپ کے اختیار والی چیزوں کا ہوگا٬ نہ کہ ان باتوں کا جن تک آپ کی رسائی ممکن نہیں تھی۔ حکمرانوں سے سوال حکومت سے متعلق ہوگا اور عوام سے ان کے مطابق کیونکہ اللہ بے حد منصف ہیں٬ اس لیے اس بات کے لئے بھی گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔
اب بات یہ آتی ہے کہ دراصل ہماری ذمہ داری ہے کیا؟
تو ایک خاتون جو گھر میں رہ کر اپنی تمام تر ذمہ داریاں خوش اسلوبی کے ساتھ نبھا رہی ہیں اور اپنی اولاد کی تربیت میں کوئی کمی نہیں آنے دے رہی ہیں٬ یہاں ان خاتون کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ بچوں کو بتائیں کہ خاتم النبیین کے صلی اللہ علیہ وسلم کون تھے؟
اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور یہ بات قرآن و حدیث سے ثابت کرکے بچوں کو رٹوائیں- ایک اسکول ٹیچر کلمۂ طیبہ کے ساتھ عقیدۂ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی بھرپور زور دے اور ایک نسل کا عقیدہ اتنا مضبوط کر دیں کہ اگر کوئی بدنصیب آ کر کوئی جھوٹا دعویٰ کرے٬ تو وہ بغیر کوئی لمحہ ضائع کیے اس شخص کو دلائل کے ساتھ جواب دے سکیں۔ ان کی بنیادیں مضبوط کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ان کا ذکر کرتے رہیں اور کلمۂ طیبہ اور صبح و شام کے اذکار کے ساتھ خود بھی آیات و احادیث دہرائیں اور ترجمہ و مفہوم کے ساتھ بچوں کو بھی یاد کروائیں۔
ان کے ایمان اور عقائد مضبوط کریں٬ کہ شک کی اس بات میں گنجائش ہو ہی نہیں سکتی۔ بتائیں کہ تاریخ میں بھی ایسے بدنصیب گزرے ہیں٬ جنہیں اپنے ایمان کی فکر تھی٬ نہ آخرت کی اور للکارہ ہے انہوں نے اللہ کے عذاب کو٬ تو نہیں کرنا کسی جھوٹے کی بات پر یقین یاد رکھیں کہ یہ تعلیمات:
A for apple and B for Banana
سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔
A for Apple to A for Ant
تو ہو سکتا ہے٬ پر عقیدۂ ختمِ نبوت صلی اللہ علیہ وسلم پر تو کسی شک کی گنجائش تک نہیں ہے_
یہ ایمان کا حصہ ہے اس کے بغیر ایمان نامکمل ہے۔
تو یہ ہے ہماری ذمہ داری٬ ایک بچے کی تربیت گویا پوری انسانیت کی تربیت ہے٬ خدارا اپنی ترجیحات بدلیں اور دین کی فکر کریں ہم خوش نصیب ترین لوگ ہیں جنہیں یہ خوبصورت دین اسلام عطا کیا گیا ہے۔
ایک اور حدیث میں میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کی نشانیاں تفصیل سے بیان فرمائی ہیں:
صحیح بخاری
کتاب: فتنوں کا بیان
حدیث نمبر: 7121
ترجمہ:
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک دو عظیم جماعتیں جنگ نہ کریں گی۔ ان دونوں جماعتوں کے درمیان بڑی خونریزی ہوگی۔ حالانکہ دونوں کا دعویٰ ایک ہی ہوگا اور یہاں تک کہ بہت سے جھوٹے دجال بھیجے جائیں گے۔ تقریباً تین دجال۔ ان میں سے ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے اور یہاں تک کہ علم اٹھا لیا جائے گا اور زلزلوں کی کثرت ہوگی اور زمانہ قریب ہوجائے گا اور فتنے ظاہر ہوجائیں گے اور ہرج بڑھ جائے گا اور ہرج سے مراد قتل ہے اور یہاں تک کہ تمہارے پاس مال کی کثرت ہوجائے گی بلکہ بہہ پڑے گا اور یہاں تک کہ صاحب مال کو اس کا فکر دامن گیر ہوگا کہ اس کا صدقہ قبول کون کرے اور یہاں تک کہ وہ پیش کرے گا لیکن جس کے سامنے پیش کرے گا وہ کہے گا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے اور یہاں تک کہ لوگ بڑی بڑی عمارتوں پر آپس میں فخر کریں گے۔ ایک سے ایک بڑھ چڑھ کر عمارات بنائیں گے اور یہاں تک کہ ایک شخص دوسرے کی قبر سے گزرے گا اور کہے گا کہ کاش میں بھی اسی جگہ ہوتا اور یہاں تک کہ سورج مغرب سے نکلے گا۔ پس جب وہ اس طرح طلوع ہوگا اور لوگ دیکھ لیں گے تو سب ایمان لے آئیں گے لیکن یہ وہ وقت ہوگا جب کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان لانا فائدہ نہ پہنچائے گا جو پہلے سے ایمان نہ لایا ہو یا اس نے اپنے ایمان کے ساتھ اچھے کام نہ کئے ہوں اور قیامت اچانک اس طرح قائم ہوجائے گی کہ دو آدمیوں نے اپنے درمیان کپڑا پھیلا رکھا ہوگا اور اسے ابھی بیچ نہ پائے ہوں گے نہ لپیٹ پائے ہوں گے اور قیامت اس طرح برپا ہوجائے گی کہ ایک شخص اپنی اونٹنی کا دودھ نکال کر واپس ہوا ہوگا کہ اسے کھا بھی نہ پایا ہوگا اور قیامت اس طرح قائم ہوجائے گی کہ وہ اپنے حوض کو درست کر رہا ہوگا اور اس میں سے پانی بھی نہ پیا ہوگا اور قیامت اس طرح قائم ہوجائے گی کہ اس نے اپنا لقمہ منہ کی طرف اٹھایا ہوگا اور ابھی اسے کھایا بھی نہ ہوگا۔
جنہیں اللہ نے قلم کی استطاعت نصیب فرمائی ہے وہ اپنے قلم سے اور جنہیں سامعین عطا فرمائے ہیں وہ اپنے الفاظ و انداز سے بتا دیں ان کو:
کہ مسلمان جان تو دے سکتا ہے پر عقیدۂ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی بات نہیں سن سکتا۔
اللہ ہم سب کے ایمان کی حفاظت فرمائیں٬ سب کا خاتمہ ایمان پر فرمائیں۔ نماز کی پابندی اور صبح و شام قرآن کی تلاوت کا اہتمام کرنے اور اہل اللہ کی صحبت اختیار کرنے سے ان شاء اللہ ہر جھوٹا شخص منہ کے بل گرے گا-
اللہ ہم سب کو اخلاص عطا فرمائیں۔
دعاگو: بریرہ خان

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے