عقل کے بٹو ئے بناۓ ہیں مرے یاروں نے

عقل کے بٹو ئے بناۓ ہیں مرے یاروں نے
بوجھ اپنے ہی اٹھائے ہیں مرے یاروں نے

میں کسی غیر کے ماتھے سے گلہ کیا پونجوں
مجھ پہ الزام لگاۓ ہیں مرے یاروں نے

ایک تصویر بدن باندھ کے کب تھی ناچی
خواب طبلے پہ نچا ئے ہیں مرے یاروں نے

تب سے یاروں میں ھے تقسیم محبت ہوئی
جب نئے یار بناۓ ہیں مرے یاروں نے

وقت آنے پہ بتاؤں گا کہانی سب کو
جو بھی کردار نبھا ئے ہیں مرے یاروں نے

رانا عثمان احامر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے