اپنی بانہوں میں سمٹ کر مجھے مرجانے دو

اپنی بانہوں میں سمٹ کر مجھے مرجانے دو
میری منزل ہے مرے پاس سفر جانے دو
اپنی سانسوں سے مجھے چُھو لو بکھر جانے دو
اور پھر میر مقدر کو سنور جانے دو
میں نہیں پیار مرا ہار رہا ہے تم سے
میں تمہیں جیت بھی سکتا ہوں مگر جانے دو
آتے جاتے ہوئے لوگوں کا نہ رستہ روکو
گھر کی دیوار سے باہر نہ شجر جانے دو
وقت ٹھہرا ہے نہ ٹھہرے گا کسی کی خاطر
یہ گزرتا ہے اُسے یوں ہی گزر جانے دو
اتنی جلدی نہ کرو جسم علیحدہ مجھ سے
روح تک میری محبت کا اثر جانے دو
شجاع شاذ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے