آپ کے دل سے نسبت سی ہونے لگی

آپ کے دل سے نسبت سی ہونے لگی
ہم کو شاید محبّت سی ہونے لگی
اِک نظر اِس طرف بھی خُدا کے لئے
دل کو تیری ضرورت سی ہونے لگی
دل میں تم کو بٹھایا ہی تھا، دیکھنا
ذہن و دل میں عداوت سی ہونے لگی
اے مہِ نیم شب دیکھ میری غزل
دل پہ تیری سیادت سی ہونے لگی
دل ہی جب دے دیا اُس کو ناہید تو
زخم پر کیوں شکایت سی ہونے لگی
ناہید ورک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے