انوکھا ہے انداز میری فُغاں کا

طرحی غزل
انوکھا ہے انداز میری فُغاں کا
میں دل ہوں فریبِ وفا خوردگاں کا
سُنو تم محبت کی مجھ سے کہانی
یہ نالہ ہے میرے دلِ ناتواں کا
میں دشتِ فلک میں ہوں آوارہ پھرتا
کہ ٹوٹا ہوں تارا کسی کہکشاں کا
اُٹھاٸی ہے اُلفت میں ذِلَّت مُسلسل
ہے احسان مجھ پر کسی مہرباں کا
مرے باب سارے ادھورے پڑے ہیں
پچیدہ ہے عنواں مری داستاں کا
خُداسےمجھےعشق ہوتابھی کیوں کر
جو چسکا پڑا مجھ کو عشقِ بُتاں کا
جسے تم نے چھوڑا ہے نقصان کر کے
مسافر تھا میں بھی اِسی کارواں کا
بہاریں جو گُزریں ہیں مثلِ خزاں ہی
مجھےڈر نہیں ہےکسی بھی خزاں کا
یہ دنیا بتوں کو ہی پوجے گی عاجز
شُغل دیکھ حرمین کے پاسباں کا
ڈاکٹرمحمدالیاس عاجز

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے