آنکھوں میں تیرتے ہیں جو خواب شبنمی سے

آنکھوں میں تیرتے ہیں جو خواب شبنمی سے
ہر پل دمک رہی ہوں میں اُن کی روشنی سے
ہونٹوں پہ میرے کیسے ہیں راگ سرمدی سے
جھرنے سے پھوٹتے ہیں لہجے کی نغمگی سے
تُو درد بھی دعا بھی، تُو زخم بھی دوا بھی
شکوے بھی ہیں تجھی سے اور پیار بھی تجھی سے
مجھ سے کبھی ملو تو، چپکے سے پوچھنا تم
منظر سے ہٹ گئی کیوں ناہید خامشی سے
کیسے تجھے بتائیں، کیسے تجھے دکھائیں
دل زخم زخم کتنا ہے تیری دوستی سے
تُو شام بن کے آیا، تُو رات بن کے چھایا
وہ بے خودی ہے مجھ پر، ہوں دُور زندگی سے
اوراقِ زندگی پر سب داستاں رقم ہے
کیوں ایسے جی رہی ہے ناہید بے دلی سے
ناہید ورک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے