آنکھیں نہیں یاں کھلتیں ایدھر کو نظر بھی ہے

آنکھیں نہیں یاں کھلتیں ایدھر کو نظر بھی ہے
سدھ اپنی نہیں ہم کو کچھ تم کو خبر بھی ہے
گو شکل ہوائی کی سر چرخ تئیں کھینچا
اے آہ شرر افشاں کچھ تجھ میں اثر بھی ہے
اس منزل دلکش کو منزل نہ سمجھیے گا
خاطر میں رہے یاں سے درپیش سفر بھی ہے
مجھ حال شکستہ کی تاچند یہ بے وقری
کچھ کسر میں اب میری اے شوخ کسر بھی ہے
یہ کیا ہے کہ منھ نوچے نے چاک کرے سینہ
کر عرض جو کچھ تجھ میں اے میر ہنر بھی ہے
میر تقی میر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے