آنکھ ٹوٹے ہوئے خوابوں کی کوئی جھیل سمجھ

آنکھ ٹوٹے ہوئے خوابوں کی کوئی جھیل سمجھ
سوکھا رومال مرے ضبط کی زنبیل سمجھ

تم نے اس ہجر کے زنداں میں قدم رکھا ہے
چاروں اطراف کے دروازوں کو اب سِیل سمجھ

ایک مدت سے جڑا ہوں کسی تصویر کے ساتھ
مجھ کو دیوار میں گاڑا ہوا اک کیل سمجھ

زلزلہ ! چیونٹی کی بِل سے بھی نکل سکتا ہے
کر نہ ایسے کسی مزدور کی تذلیل ! سمجھ

یہ مری چوٹ نے پہنا ہے کفن سا ملبوس
اِس کو مت داغِ برص جان اِسے نیل سمجھ

قیدِ مذہب نہ لگا عشق کو محدود نہ کر
عشق آیت ہے میاں ! عشق کو انجیل سمجھ

احمد آشنا

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے