اندمالی میں یہ احساسِ زیاں تھا پہلے

اندمالی میں یہ احساسِ زیاں تھا پہلے
زخم تو بعد میں آیا ہے نشاں تھا پہلے
پٹڑیاں بعد میں وحشت کی علامت بنی ہیں
خودکشی کرنے کو گاؤں میں کنواں تھا پہلے
دل میں رہنے کے بھی آداب ہوا کرتے ہیں
تجھ کو معلوم نہیں کون یہاں تھا پہلے
لامکاں لا کے اضافے سے بنایا گیا ہے
اک مکیں اور فقط ایک مکاں تھا پہلے
ایک سیگرٹ تھا مرے ہاتھ میں ایسے کہ قلم
یعنی جو شعر ہوا ہے وہ دھواں تھا پہلے
فیضان ہاشمی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے