اندر کی جنگ

اندر کی جنگ

زمینِ جسم میں درد وں کی بارودی سُرنگیں ہیں

کبھی گولی کی صورت غم اُترتا ہے جو سینے میں

تو ایسے ذہن کے اندر سے سنّاٹے گزرتے ہیں

محاذِ جنگ کو جیسے ہزاروں ٹینک جاتے ہوں

چلی آتی ہیں تنہائی کی فوجیں روندنے دل کو

دھنا دھن گرنے لگتے ہیں

اَلَم کے توپ خانے سے

اداسی کے کئی چنگھاڑتے گولے

اجڑتے دل کی دھرتی پر

کبھی جنگی جہازوں کی طرح آتے ہیں

ماضی کے حسیں قصّے

دکھوں کے بم، دھماکے کرنے لگتے ہیں

بدن میں پھٹنے لگتے ہیں

اچانک ایک زنّاٹے سے

مایوسی کا راکٹ آن گرتا ہے

زمین ِیاد جلتی ہے

دھواں آنکھوں تک آتا ہے

امیدوں کی جلی چیخیں نکلتی ہیں

فصیلِ جاں لرزتی ہے

تھکے ہاتھوں میں تھاما ضبط کا پرچم

زمیں پر گرنے لگتا ہے

جوابی کاروائی میں یہی کچھ اپنے بس میں ہے

بس اک یلغاراشکوں کی

شہزاد نیّرؔ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے