امّاں

امّاں

اماں
دو برس گزر گئے ہیں
تجھے دیکھا نہیں
تیرے پر تاثیر لمس کو محسوس نہیں کیا
تیرے شفا بخش ہاتھوں کو چوم بھی نہیں پائی
دیکھ نا اماں
تو جو اوجھل ہے تو
میں آدھی رہ گئی ہوں
کچھ بھی پہنوں اوڑھوں
کوئی نہیں کہتا
تم پہ سب سجتا ہے
تم نے جو مٹی اوڑھی ہے اماں
تم پر نہیں سجتی۔۔۔ !
تم جہاں پر ہو لوگ اسے مرنا کہتے ہیں
لیکن اماں تو ہی بتا
تو تو کہتی تھی
خالق نہیں مرتا
تو بھی تو تخلیق کار تھی
ایک بے جان لوتھڑے میں
اپنے لہو سے جان بھری تھی تو نے
اپنی سانسوں سے سانس بھری تھی تونے
تو بھی تو خالق کی مددگار تھی
تخلیق کار تھی
تو کیسے مر سکتی ہے
جب تجھ سے جیون پا کر میں زندہ ہوں ؟؟؟
جب تیری مانگی ساری دعائیں جاوداں ہیں
بول نا اماں
تو کیسے مر سکتی ہے ؟؟؟
مومنہ وحید

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے