امیر شہر سے جب اختلاف کرتا ہوں

امیر شہر سے جب اختلاف کرتا ہوں
تو سارے شہر کو اپنے خلاف کرتا ہوں

ترے ضمیر سے تجھ کو سزا ملے تو ملے
ترے گناہ میں دل سے معاف کرتا ہوں

میں اپنی سوچ کا احرام باندھ کر اکثر
کسی کے نقش قدم کا طواف کرتا ہوں

میں اپنے قاری کو مشکل میں ڈالتا ہی نہیں
جو بات کرتا ہوں میں صاف صاف کرتا ہوں

بس ایک جہد مسلسل ہے کائنات اپنی
سو اپنے روح کے اندر شگاف کرتا ہوں

تمھاری ذات کو تسلیم کرنے سے پہلے
میں اپنی ذات سے بھی انحراف کرتا ہوں

پرانے درد مرے دل میں راز ہوتے ہیں
سو روز خود پہ نیا انکشاف کرتا ہوں

میں چاہتا ہوں مرے دوست پر نہ حرف آئے
سو اس کے جرم کا میں اعتراف کرتا ہوں

عدید یاد کے آنگن میں بیٹھ کر تنہا
میں رات تا بہ سحر اعتکاف کرتا ہوں

سید عدید

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے