یہ گئی اماوسوں کا ذکر ہے

یہ گئی اماوسوں کا ذکر ہے
کہ ایک شام گھر کو لوٹتے ہُوئے میں راستہ بھٹک گئی
مری تلاش مجھ کو جنگلوں میں لا کے تھک گئی
میں راہ کھوجتی ہی رہ گئی
اس ابتلا میں چاند سبز چشم ہو چکا تھا
جگنوؤں سے اُمید باندھتی
مہیب شب ہر اس بن کے جسم و جاں پہ یوں اُتر رہی تھی
جیسے میرے روئیں روئیں میں
کسی بلا کا ہاتھ سرسرا رہا ہو
زندگی میں ۔۔۔ خامشی سے اِتنا ڈر کبھی نہیں لگا!
کوئی پرند پاؤں بھی بدلتا تھا تو نبض ڈوب جاتی تھی
میں ایک آسماں چشیدہ پیڑ کے سیہ تنے سے سرٹکائے
تازہ پتّے کی طرح لرز رہی تھی
ناگہاں کسی گھنیری شاخ کو ہٹا کے
روشنی کے دو الاؤ یوں دہک اُٹھے
کہ ان کی آنچ میرے ناخنوں تک آ رہی تھی
ایک جست۔۔۔
اور قریب تھا کہ ہانپتی ہُوئی بلا
مری رگ گلو میں اپنے دانت گاڑتی
کہ دفعتاً کسی درخت کے عقب میں چوڑیاں بجیں
لباس شب کی سلوٹوں میں چرمرائے زرد پتّوں کی ہری کہانیاں لیے
وصالِ تشنہ کا گلال آنکھ میں
لبوں پہ ورم ، گال پر خراش
سنبلیں کھُلے ہُوئے دراز گیسوؤں میں آنکھ مارتا ہُوا گُلاب
اور چھلی ہُوئی سپید کہنیوں میں اوس اور دھُول کی ملی جلی ہنسی لیے
وہی بلا ، وہی نجس، وہی بدن دریدہ فاحشہ
تڑپ کے آئی___اور__
میرے اور بھیڑیے کے درمیان ڈٹ گئی
پروین شاکر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے