اے مرے بےوفا الوداع الوداع

اے مرے بےوفا الوداع الوداع
اب نہ دوں گی صدا الوداع الوداع
سانس رکنے لگی دل ٹھہر سا گیا
اس نے جب کہہ دیا الوداع الوداع
وقتِ رخصت ملی جب نظر سے نظر
چشمِ تر نے کہا الوداع الوداع
تُو بھی محسوس کر نارسائی کا دکھ
تُو بھی سنتا تو جا الوداع الوداع
تُو بھی آزاد ہے میں بھی آزاد ہوں
کر کوئی فیصلہ الوداع الوداع
چھوڑ قصے پرانے نئی بات کر
اپنی مرضی بتا الوداع الوداع
تونے کچھ پل گزارے مرے ساتھ بھی
جا ترا شکریہ الوداع الوداع
بھول جاؤں ترے بعد دنیا بھی میں
مجھ کو دے بددعا الوداع الوداع
غم کی شدت سے سورج کہیں کھو گیا
شام نے جب کہا الوداع الوداع
منزّہ سیّد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے