المیہ 

المیہ 

آگہی کا عذاب سہنے دو

جو بھی آتا ہےجی میں کہنے دو

بے ردائی کہوں یا گھونگھٹ ہے

صرف چہرے نقاب کے پیچھے

ایک امید کی کرن تھی کوئی

ٹمٹما کے بھی اب ہے بجھنے کو

بے لباسی کی کوئی تازہ شکل

احترام احترام کرتی ہوئی

یوں دکھاتی ہے اپنے چال چلن

ہے گماں یہ شریف زادی کوئی

آبرو کے شکستہ زینے پر

اوڑھنی سر سے جب گراتی ہے

اس کی آنکھوں میں ایک رات کے ساتھ

نسل سازی کے سارے عیب وہنر

بند کمروں کی بے نوا چیخیں

عصمتوں کے تمام نقش کہن

چند سکوں کے دام بکتے ہیں

اور معصومیت کے سارے گن

قید خانوں میں جا نکلتے ہیں

برہنہ بے کسی کی تفسیریں

کتنی مقبول ہیں شریفوں میں

پیٹ کی آگ سے سلگتے بدن

راحتوں کی فضاء کے ماتم گر

اپنی پرہول زندگی سے جڑے

دوبدو زندگی سے لڑتے ہوئے

ٹاٹ بھی مخملوں سے گھائل ہیں

ہے عجب پھر بھی سارے مائل ہیں

جلتی رنگین روشنی سے پرے

بوڑھی کھانسی کی ایک لمبی گلی

اس طرح نرم ماس کھاتی ہے

کتنی شبنم سی سرخ رو کلیاں

زر کی چادر تلے بلکتے ہوئے

اپنی سانسوں کو ہار جاتی ہیں

سلمیٰ سیّد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے