الف لیلہ کی ایک رات

الف لیلہ کی ایک رات
"زندگی کی اُلجھنوں میں پھنس کر بہت سے لوگ خیال کرنے لگتے ہیں کہ زندگی ازسرتابہ پا ایک تلخ و بے کیف سبق ہے، جو فطرت ہمیں جبر کر کے سکھاتی اور سکھینے پر مجبور کر دیتی ہے۔ لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔ ہم میں سے اکثرافرادایسے نکل آئیں گے جن کے لیے خوش نصیبی سے زندگی ایک مسلسل دلچسپی بنی ہوئی ہے اور وہ کبھی اِس کی ناگواریوں کا شکار نہیں ہوتے۔ ”
میں اپنے دوست کو حیرت اور دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔ کیا یہ تعجب کی بات نہ تھی کہ اِس دور میں جبکہ نہ صرف ہمارا ملک بلکہ تمام دنیا اقتصادی بدحالی کے ہاتھوں نالاں ہے اور غریبوں کو تن ڈھانکنے کو کپڑا اور پیٹ بھرنے کو روٹی نصیب نہیں ہوتی۔۔۔۔ خدا کے بعض بندے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ "خاص "بندے ایسے بھی موجود ہیں جواِس منحوس زمین کے اوپر اور بے رحم آسمان کے نیچے اپنی رنگینیوں کی ایک نئی دنیا آباد کیے بیٹھے ہیں۔
میرادوست کوئی امیر آدمی نہیں۔ ایک غریب شاعر ہے۔ محض شاعر! اورسب کو معلوم ہے کہ اُردو کے شاعر انتہائی درجے کے مفلس اور قلاّش ہوتے ہیں۔ ہمایوں بھی اِس کلّیہ کے برخلاف کوئی استثناپیش نہیں کرتا۔ سوائے اِس کے کہ وہ ابھی "بوڑھا "نہیں۔ نہ عمر کے لحاظ سے نہ شاعرانہ خیالات کے اعتبارسے، بلکہ شاید یہ کہنا زیادہ موزوں ہو کہ اُس کی جوانی اور جوانی کا احساس ایک ایسی دولت ہے کہ اُسے کسی لحاظ سے بھی غریب کہا ہی نہیں جا سکتا۔
وہ اور میں دونوں ہم جماعت رہ چکے تھے۔ لیکن زندگی کی کش مکش نے مجھے اُس سے جدا کر کے ایک دُور اُفتادہ گاؤں میں پھینک دیا اور وہ بدستور لکھنؤ کی متمدّن اور حسین و جمیل دنیا میں سانس لے رہا تھا۔ جدائی کے اِس پنج سالہ عرصے میں ہم نے اتنی ترقی کی تھی کہ وہ شاعر کی حیثیت سے ایک قابلِ رشک شہرت کا اور میں کلرک کی حیثیت سے ایک ناقابلِ رشک "بیوی "کا مالک ہو چکا تھا۔
رہا یہ سوال کہ اپنی ملکیت کے لحاظ سے کون اچھی حالت میں تھا؟ میرا خیال ہے کہ اِس پرکسی سیاسی یا اشترا کی بحث کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ جبکہ میں پہلے ہی عرض کر چکا ہوں میری "ملکیت "قطعی قابل رشک نہ تھی اور میرے پنج روزہ قیام لکھنؤ کی آخری شام کو اُس نے جو واقعہ مجھے سنایا اُس کے بعدتواِس میں مطلقاً کوئی شک و شبہ ہی نہیں رہتا کہ میرا یہ دوست کہیں زیادہ اچھی حالت میں تھا۔
اُس رات وہ کس مسرّت اور بے خودی کے سے عالم میں کہہ رہا تھا "زندگی کی اُلجھنوں میں پھنس کر بہت سے لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ زندگی ازسرتابہ پا ایک تلخ و بے کیف سبق ہے۔۔۔۔ "اور میں حیرت اور تعجب سے اُس کا منہ تک رہا تھا۔ سچ پوچھئے تو مجھے اُس پر رشک آ رہا تھا۔ یہ آزاد اور خُوش رُو نوجوان کس قدر بے فکر تھا اورکس درجہ خوش نصیب! مگراِس خوش نصیبی کا حال اُس کی اپنی زبانی سنیے :۔
"پچھلے ماہ کا قِصّہ ہے۔ اِس لیے مجھے اِس قصّے سے بہت دلچسپی ہے۔ شاید ایک وجہ اور بھی ہو۔ اور وہ یہ کہ ابھی اِس کا خاتمہ نہیں ہوا۔ اِس قصّے کا عملی خاتمہ ابھی نہیں ہوا۔ "اُس نے سگریٹ کی راکھ جھاڑی۔ ایک زور کا کش لگایا اور پھر بولا۔ ایک دن کا ذکر ہے میں اپنی میز پر بیٹھا ہوا اپنی ایک تازہ نظم پر نظرِ ثانی کر رہا تھا کہ اتنے میں چپراسی نے شام کی تازہ ڈاک لا کر میرے سامنے رکھ دی میں نے پنسل پھینک کر جلدی سے خطوں کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ رسالے اور اخبار ایک طرف رکھے اور بیک نظر خطوط کے پتوں کا جائزہ لیا۔ میں ڈاک کا بڑی بے تابی سے انتظار کیا کرتا ہوں۔ کسی دوست کا خط ہویاکسی اجنبی کا میرے لیے بڑی دلچسپی کاسامان ہوتا ہے۔ عام طور پر پہلے اجنبیوں کے خطوط پڑھا کرتا ہوں۔ ایک خط کی تحریر اجنبی سی نظر آئی۔ میں نے پہلے اُسے کھولا اور خط پڑھنا شروع کیا۔ جندسطریں تھیں۔ مگر ایک مرتبہ۔ دو مرتبہ۔ تین مرتبہ پڑھ گیا۔۔۔۔ "رقیمۂ نیاز "پر شاید کئی مرتبہ نظر ڈالی۔ کیونکہ اُس کے نیچے ایک عورت کا نام لکھا تھا۔ ایک بالکل اجنبی عورت کا نام۔۔۔۔ مگر نام کی دل کشی۔۔۔۔۔ ایسامعلوم ہوتا تھاجیسے میرے کسی رنگین خیال کی طرح مجھ سے معاً آشنا ہو گئی ہو۔ جیسے میرے دماغ میں فوراً بس گئی ہو۔۔۔۔ "یاسمین "کتنا دل کش نام ہے !۔۔۔۔ مجھ پراِس حسین نام اور خط کا اتنا اثر ہوا کہ گھنٹوں اُس کی بابت سوچتا رہا۔۔۔۔ اُس کی صورت۔۔۔۔ اُس کی عمر اور اُس کے قامت کے متعلق ہزاروں خیال آتے رہے۔ اُس کے خط کو میں نے اتنی مرتبہ پڑھا کہ مجھے حفظ ہو گیا۔ لکھا تھا:۔
ادیب محترم! تسلیم آپ کی نظم "ایک رات کی رام کہانی "نظر سے گزری۔ کیا میں یہ پوچھنے کی جرأت کر سکتی ہوں کہ اِس نظم میں جو کہانی بیان کی گئی ہے۔ وہ محض تخیّل ہے یا حقیقتاً اِس صحبتِ شبانہ میں کوئی "زہرہ جبیں "آپ کی شریک صحبت تھیں۔ خدا جانتا ہے کہ یہ نظم ہر وقت پیشِ نظر رہتی ہے۔ خدا کرے کہ آپ ہمیشہ خیریت سے رہیں۔ مگر ہمارے دلِ "رنجور "سے غافل اور بے نیاز۔
والسلام
یاسمین
بتوسط خان بہادر جمشید علی
پتے سے تمہیں کچھ سروکار نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ یہ میرا نہیں ایک شریف خاتون کا راز ہے۔ اِس لیے صرف نام بتانا کافی ہے۔ بہرحال اُس رات مجھے صبح تک نیند بہ آئی۔ تخیّل نے اُس غائبانہ ہستی کی ہزاروں ہی تصویریں بنا کر بکھیر ڈالیں مگر کوئی پسند نہ آئی۔ ہر مرتبہ دل یہی کہتا تھا کہ۔
اِس طرح کا جمال ہو، ایسا شباب ہو!
لیکن تسکین نہ ہوتی تھی اور کیونکر ہوتی۔ کسی صورت پر خیال جمتا ہی نہ تھا۔
رات بھر اُن کے تصّور دل کو تڑپاتے رہے
چند نقشے سامنے آتے رہے جاتے رہے
تم یہ سن کر حیران ہو گے کہ میں ہفتے بھر تک اِسی شغلِ دیوانگی میں مصروف رہا۔ یہاں تک کہ اُس کے خط کا جواب بھی نہ دے سکا۔ بالآخرساتویں دن اِس خیالی لذّت کے خواب سے بیدار ہوا تو جواب کی سوجھی۔ یہ خط میں نے اتنا بنا بنا کراورسنبھال سنبھال کر لکھا تھا کہ شاید کبھی نہ لکھا ہو گا۔ خط کا مضمون مختصر تھا۔ مگر شوخی سے خالی نہ تھا۔ اور پھر میری شوخی، ہنسانا اور رُلانا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ میں نے لکھا تھا۔ "جس رام کہانی کے متعلق آپ دریافت فرماتی ہیں۔ وہ "محض تخیّل "ہے۔ لیکن اگر آپ کی عشوہ طرازی پسندکرے تواِس "تخیّل میں حقیقت "کا رنگ بھراجا سکتا ہے۔۔۔۔ ! بشرطیکہ ناگوار نہ ہو۔ "جواب کے انتظار میں جو وقت گزرا، اُس کی طوالت کا حال خدا جانتا ہے۔
کہ تھی اِک اِک گھڑی سَوسَومہینے
آخر خدا خدا کر کے چھٹے دن جواب ملا کہ "پا بہ رکاب ہوں۔ اور مشتاقِ لقا۔ ١٦-نومبر کو٨-بجے ہاکمینز ہوٹل میں! ‘‘۔۔۔۔ میں نے یہ خط پڑھا تو گھبرا گیا۔ میں نے اپنی عمر میں کبھی کسی اجنبی عورت سے ملاقات نہیں کی تھی۔ ہر چند کہ عورت کا تصّور میرے لیے ایک بہشت سے کم نہ تھا۔ مگرکسے معلوم کہ یہ بہشت مل بھی سکتی ہے ! کسی نسوانی وجود کا خیال میرے لیے ہمیشہ ایک لذیذ خواب بنا رہا تھا۔ مگر کیا جانتا تھا کہ یہ خواب حقیقت بن سکتا ہے۔ میں اُس وقت ایک عجیب گومگو کے عالم میں تھا۔ ملاقات کی ہمّت نہیں پڑتی اور دل کہتا تھا کہ ملاقات ضرور ہو۔ اب کیا کریں؟ میرے چاروں طرف کتنی پُراسرارفضاپیداہو گئی تھی۔ کبھی سوچتا۔ "خدا جانے کون ہے کون نہیں؟ کہیں فریب ہی نہ ہو۔ بیٹھے بٹھائے کیوں عذاب مول لیں۔ "اور اُدھر حضرتِ دل کا تقاضا تھا کہ محبت کی دعوت دے کر پیچھے ہٹنا کیونکر ممکن ہے۔ آخر بڑی رد ّو کد کے بعد میں نے یہ مختصرساجواب لکھا کہ "حکم کی تعمیل کی جائے گی ‘‘۔۔۔۔ اور۔۔۔۔ اور میں١٦ تاریخ کو ہاکمینز ہوٹل میں جا ڈٹا۔۔۔۔۔ جا ڈٹا۔ میں نے اِس لیے کہا کہ سچ مچ اُس پُراسراراور اجنبی ہستی کی ملاقات مجھے بدحواس بنائے دیتی تھی۔ یوں تومیں نے تمام راستہ ڈگمگاتے اور لڑکھڑاتے ہوئے قدموں کے ساتھ طے کیا تھا۔ مگر ہوٹل میں قدم رکھتے ہوئے تو دل و دماغ کی جو کیفیت ہوئی اُسے کچھ میں ہی جانتا ہوں۔۔۔۔ جانتا یہ ہوں کہ اُس وقت کسی بات کو جاننے کا مجھ میں ہوش ہی نہ تھا۔ اور اگراِس عجیب و غریب اور پُر راز معاملے سے جواِس طرح سے شروع ہو گیا تھا، پردہ اُٹھانے کا شوق اور محبت کی تشنگی کا وفور مجھ پر غالب نہ آ جاتا تو شاید میں وہاں جانے کی جرأت ہی نہ کرتا۔۔۔۔ بہرحال میں لرزتے ہوئے قدموں اور جھُکی ہوئی نظروں کے ساتھ جلدی سے ہوٹل میں داخل ہوا۔ اور چپکے سے ایک مختصر سے کمرے میں جا بیٹھا۔ جہاں میں اِس سے پیشتر اکثر احباب کے ساتھ آ کر بیٹھا کرتا تھا۔ ہمارا مخصوص خادم سوہن لال جھپٹ کر اندر آیا اور پردہ ٹھیک کرتے ہوئے بولا "حضور ایک آدمی آپ کو پوچھتا تھا۔ "میں نے پردہ کی طرف دیکھ کر ایک ہلکاسا اطمینان کاسانس لیا اور بولا۔ "سوہن لال اُس آدمی کو جہنّم میں ڈالو۔ پہلے لپک کر ایک بڑا وہسکی لاؤ! "میری حالت دیکھ کروہ متعجّب ساتوہوا۔ مگر اُنہی قدموں واپس ہو گیا اور ایک منٹ میں ایک پیگ اور سوڈالیے ہوئے نمودار ہوا۔ میں نے اُس کے سوڈا ڈالنے کا بھی انتظار نہ کیا اور جلدی سے گلاس لے کر اپنے منہ سے لگا لیا۔
شراب کے تذکرے پر میں جو مسکرایا تو ہمایوں کہنے لگا "ہنسونہیں۔ میں جانتا ہوں کہ تم جیسے نیک آدمیوں کے سامنے اِس چیز کا ذکر کرنا بھی حرام ہے مگر چونکہ واقعہ تھا۔ اِس لیے میں نے بیان کر دیا۔ مجھ پر ایک نامعلوم خوف غالب تھا اور اِسی لیے میں ایک نہ دو، اکٹھے چار پیگ یکے بعد دیگرے پی لیے اور اب۔۔۔۔ یقین جانو میں شیطان سے بھی لڑنے کو تیار تھا۔ میں نے سوہن لال سے پوچھا۔ کیوں سوہن اب بتاؤ وہ آدمی کون تھا جو مجھے پوچھتا تھا۔ اُس نے کہا۔ "صاحب نام نہیں بتایا گیا۔ کسی کا نوکر معلوم ہوتا تھا۔ "میں نے دریافت کیا "کبھی پہلے بھی آتا تھا "سوہن لال نے جواب دیا۔ "نہیں حضور کبھی نہیں۔ کوئی نیا ہی آدمی دکھائی پڑتا تھا ‘‘۔۔۔۔ یہ کہہ کرسوہن لال تو گیا کچھ اور لینے اور میں اپنے اوور کوٹ کے بٹن کھولنے لگا۔ اِس کے بعد میں نے سگریٹ سلگایا اور مزے لے لے کر پینے لگا۔ جسم میں کچھ حرارت پیدا ہوئی اور میرے دل و دماغ، اور اُن کے ساتھ ہی نظروں میں مسکراہٹ! !
آئے جو میکدے میں تو دنیا بدل گئی
اب مجھے اپنی پراسرار "محبوبہ "کا خیال ہوا۔ خدا جانے وہ مجھے کیوں کر ملے گی؟ شریف زادیوں کا اِس قسم کے ہوٹلوں اور رقص گاہوں میں کام ہی کیا ہے ؟ لیکن اوپر ٹھہرنے کے کمرے تو بنے ہیں۔ اکثرمعزّزہندوستانی لوگ اِن میں ٹھہرا کرتے ہیں۔ اُس کے ٹھہرنے میں کیا قباحت ہے ؟ مگر پردہ۔۔۔۔ خدا جانے وہ پردہ کرتی ہے یا نہیں! سنا ہے ہمارے ہاں اکثر خاندانوں میں پردہ نہیں رہا اور اب تو عام طور پر اُٹھتا جاتا ہے۔۔۔۔ نہ معلوم اُس کی صورت کیسی ہو گی؟ اور عمر۔۔۔۔ یہ بھی قابلِ غور بات ہے۔ خط کی دل کشی سے تو نوجوان معلوم ہوتی تھی۔ لیکن اِن عورتوں کا خط بھی اُن کی طرح اکثر دھوکا دے جاتا ہے۔۔۔۔ کچھ بھی ہو، اب تو ملے بغیر نہ جاؤں گا۔ چاہے اُس کے انتظار میں یہیں رات کیوں نہ کاٹنی پڑے۔۔۔۔
میں کچھ اِسی قسم کے خیالات میں گّم تھا کہ اِتنے میں سوہن لال نے پردہ سرکا کر کہا۔ "صاحب وہی آدمی پھر آیا ہے۔ "میں نے کہا "اندر بُلا لومگراِس کمرے سے باہر۔ "کچھ دیربعدسوہن لال نے آ کر مجھے باہر بلایا۔ میں اوور کوٹ کے بٹن لگاتا ہوا نکلا۔ سامنے تاریکی میں وہ آدمی کھڑا تھا۔ میں نے بیک نظر دیکھا اور غور کیا۔ اِس سے پیشتر میں نے اُسے کہیں نہ دیکھا تھا۔ سوہن لال وہاں سے چلا گیا تو وہ آدمی میری طرف بڑھا۔ بڑے پُراسرارانداز میں قریب آیا۔ تومیں نے پوچھا۔ "تم میری تلاش میں ہو؟ "اُس نے آہستہ سے جواب دیا۔ "شاید۔ آپ کو یہاں کسی نے بلایا تھا۔ "جس نرمی اور آہستگی سے یہ سوال دُہرایا گیا تھا۔ اُس سے پُراسراریت چھلکتی تھی۔ سرخوشی کے باوجود مجھ پرکسی قدر خوف ساغالب ہوا۔ مگر میں نے اپنے آپ کوسنبھالتے ہوئے کہا "ہاں مجھے یہاں آنے کے لیے کہا گیا تھا۔ "اب میں سمجھاوہ کس کا قاصد ہے۔ اُس نے پوچھا "بلانے والے کے نام کا آخری حرف "میں نے جواب دیا "ن "اُس نے پھر پوچھا۔ "آپ کے نام کا آخری حرف کیا ہے ؟ "میں نے جواب دیا "ن "اُس نے یہ سن کر جلدی سے کہا "تشریف لائیے ! اور میرے جواب کا انتظار کیے بغیر باہر چل دیا۔ میں نے اپنے دل میں کہا "الٰہی مجھے یہ کہاں لے جائے گا۔ وہ پُراسرارخاتون کہاں ہے ؟۔۔۔۔۔ ہوٹل سے باہر نکل کروہ بائیں طرف ہولیا۔ میں پیچھے پیچھے اور وہ آگے آگے۔۔۔۔ کچھ دیر یونہی چلتے رہے۔ کوتوالی سے آگے بڑھ کراُس کی رفتار کچھ دھیمی ہوئی۔۔۔۔۔ سامنے ایک طویل القامت ڈاج کار کھڑی ہوئی تھی۔ وہ اُس کے قریب جا کر رُک گیا۔ جب میں دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ گاڑی کے قریب پہنچا۔ تو وہ ادب سے اُس کی طرف اشارہ کر کے ایک طرف ہٹ گیا۔ میں آہستہ آہستہ گاڑی کے پاس پہنچا۔ سڑک کے دوسری طرف کی ہلکی سی روشنی میں ایک سیاہ برقع پچھلی نشست پر نظر آیا۔ میں نے گاڑی کی کھڑکی پر ہاتھ رکھا اور خاموش کھڑا ہو گیا۔ سیاہ ریشمی برقع میں سے ایک ہاتھ۔۔۔۔ ایک گلابی اور نازنین ہاتھ باہر نکلا۔۔۔۔ نکلا اور آہستہ آہستہ میری طرف بڑھا۔ میں نے بھی دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ۔۔۔۔ اپنا لرزتا ہوا ہاتھ آگے بڑھایا۔ ہاتھ ملاتے ہی میرے جسم میں بجلی سی دوڑ گئی۔
بدن چھُو گیا آگ سی لگ گئی
نظر مل گئی دل دھڑکنے لگا
اُس کا ہاتھ کچھ دیر میرے ہاتھ میں رہا۔ ایسامعلوم ہوتا تھا کہ ایک برقی رَواُس سے خارج ہو کر میرے تمام بدن میں شعلے سے بھڑکا رہی ہے۔ مجھے محسوس ہوا کہ اُس کا ہاتھ میرے ہاتھ کو دبا رہا ہے۔ اور اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔ کیا وہ مجھے اندر بلا رہی ہے۔ ممکن ہے یہ مطلب نہ ہو۔ اور اگر میں اندر جا بیٹھوں تو کہیں شرمندہ ہی نہ ہونا پڑے۔۔۔۔ میں بدستورخاموش کھڑا رہا۔ آخر پہلی مرتبہ اُس نے اپنی زبان کھولی۔۔۔۔ آہ! وہ موسیقانہ آواز۔۔۔۔ آواز تھی۔ یا چاندی کی ہلکی سی جھنکار! اُس نے شرماتے ہوئے کہا۔ "اندر آ جائیے !۔۔۔۔ "میں نے رُکتے جھجکتے ہوئے پوچھا۔ "چائے نہ پیجئے گا۔۔۔۔ "اُسی نغمہ صفت آواز میں جواب ملا "مہربانی!۔۔۔۔ اِس وقت نہیں۔۔۔۔ آپ اندر کیوں نہیں آ جاتے۔ ‘‘۔۔۔۔ مجھ سے کوئی جواب نہ بن پڑا۔۔۔۔ میں آگے بڑھ کر ڈرائیور کی نشست پر جانے لگا۔ شایداُس نے میرا ارادہ بھانپ لیا۔ اُس نے فوراً روکتے ہوئے کہا "اُدھر نہیں اِدھر۔۔۔۔ اِدھر آ جائیے۔ "اور دروازہ کھولنے کے لیے اپنا پھول ساہاتھ بڑھایا۔ مگر اُس کی زحمت کا خیال کر کے میں نے جلدی سے دروازہ کھولا اور نہایت آہستہ اور ادب سے اُس کے قریب بیٹھنے کی کوشش کی۔ اُس نے اپنے ہاتھ سے میرے بازو کو پکڑا اور مجھے خود اپنے قریب بٹھا لیا۔۔۔۔ اِتنے میں ڈرائیور، وہی آدمی جو مجھے بلانے گیا تھا۔ قریب آ کھڑا ہوا۔ میری نادیدہ "محبوبہ "نے کہا "چلو "یہ سن کر ڈرائیور فوراً اپنی جگہ آ بیٹھا اور گاڑی آہستہ آہستہ ہوا کی سی سبکی سے چل پڑی۔ کہاں! یہ میرے فرشتوں کو بھی معلوم نہ تھا۔ کچھ بھی ہو اَب میرا نامعلوم خوف غائب ہو گیا تھا۔ اب میں اُس کے ساتھ جہنّم میں بھی جانے کو تیار تھا۔
مجھے ایسا محسوس ہوا کہ اُس کاجسم میرے جسم سے چھو رہا ہے شاید عمداً۔۔۔۔ میرے رگ و پے میں ایک برقی رَو دوڑ گئی۔ اِس مرتبہ یہ برقی رَو ایک نئی کیفیت کی حامل تھی۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ میں بہشت کے کسی حسین چشمے میں غرق ہو رہا ہوں۔ اُس کے نازک و نازنین جسم کا اِتّصال جذبات میں ایک ایسی آگ بھڑکا رہا تھا۔ جو معلوم ہوتا تھا۔ کبھی نہ بجھے گی۔ اُسی شیریں لذّت سے مست اور سرشار میں خدا جانے کہاں سے کہاں جا پہنچا۔ مجھے کچھ معلوم نہ ہوا کہ گاڑی کدھر جا رہی ہے اور ہم کہاں ہیں۔ یہاں تک کہ ایک وسیع اور صاف سڑک پر گاڑی ٹھہری۔ چاند نکل آیا تھا۔ اور اُس کی مدّھم روشنی فضا کو بے حد دلچسپ اور حسین بنا رہی تھی۔ اُس نے مجھ سے کہا "آپ ایک منٹ یہیں ٹھہریئے "ڈرائیور نے موٹر کا دروازہ کھولا۔ وہ تیزی مگرآہستگی سے اُتر پڑی۔ میں اُس کے سروَقامت مجسمے کو جو بَرقع کی وجہ سے اُس کی زلفوں کی طرح سیاہ سایہ نظر آ رہا تھا، اشتیاق سے دیکھتا رہا اورسوچنے لگا کہ اُس کی زلفیں سیاہ ہوں گی یا خرمئی؟۔۔۔۔ وہ بائیں طرف ایک کوٹھی کے پھاٹک میں داخل ہوئی اور برسات کی ایک اندھیری رات کے خواب کی طرح نظروں سے دور ہوتی گئی۔ ڈرائیوراُس کے پیچھے تھا۔ وہ بھی گھنیرے درختوں کی تاریکی میں غائب ہو گیا اور مجھے اُس خواب کی سی حسین فضا میں اُس مقام کے متعلق سوچنے کے لیے تنہا چھوڑ گیا۔ میں نے لاکھ کوشش کی کہ یہ جگہ یاد آ جائے مگر حافظہ نے بالکل مدد نہ کی۔ شاید میں اِس سے پہلے اِس مقام پر آیا ہی نہ تھا۔
اتنے میں اندر کی طرف سے ایک سایہ ہلتا جلتا نظر آیا۔ ڈرائیور نے واپس آ کر کہا۔ "اندر تشریف لے چلئے۔۔۔۔ وہ وقت۔ وہ سناٹا، وہ چاندنی، وہ باغ کاسماں، وہ پراسرارعورت۔ وہ میں کہ کبھی میں نے اِس الف لیلہ کی سی رومانی فضا میں سانس نہ لیا تھا۔ بہرحال میں اُس کے پیچھے ہو لیا۔ باغ سے گزر کر ایک عظیم الشّان عمارت کے قریب پہنچا۔ ڈرائیور نے ایک طرف دروازہ کھولا اور مجھے اندر جانے کا اشارہ کیا۔ اندر اندھیرا تھا۔ مگر اُس کے ساتھ کے کمرے میں روشنی تھی۔ اُس کی مدد سے میں نے کمرہ کا جائزہ لیا۔ کمرہ نفیس ترین سازوسامان سے مزیّن تھا۔
میں ابھی کمرے کا جائزہ لے ہی رہا تھا کہ روشن کمرے سے میری سیاہ برقع والی میزبان آتی نظر آئی۔ اُس نے ابھی تک برقع نہیں اُتارا تھا۔ وہ بدستوراپنے سیاہ ریشمی پردے میں لپٹی ہوئی نظر آئی۔ اور آئیے کہہ کر مجھے دوسرے کمرے میں لے گئی۔ بیچ کا دروازہ آہستہ سے بند ہو گیا۔ مجھے اتنا ہوش نہیں کہ اُس نے خود بند کیا یا کسی اور نے۔۔۔۔۔۔ بہرحال مجھے اتنا یاد ہے (اور یہ یاد میرے لیے کافی ہے ) کہ جس کمرے میں ہم داخل ہوئے۔ وہ کسی راجہ اِندر کی خوابگاہ سے کچھ کم شاندار اور دلآویز نہ تھا۔ دروازوں پر بیش قیمت مخملی پردے پڑے ہوئے تھے سامنے ایک مسہری بچھی تھی۔۔۔۔ اُس مسہری کا تخیل الٰہی توبہ!
وہ شمالی دروازہ کی طرف گئی۔ اُس نے دروازہ کو دیکھا اور اُنہی قدموں واپس لوٹ آئی۔ اُس کے بعد۔۔۔۔ اُس کے بعد جو منظر میں نے دیکھا، میری آنکھیں اُسے قیامت تک فراموش نہیں کر سکتیں۔ اُس نے اپنا برقع اُتار دیا اور مجھے ایسامحسوس ہوا کہ کمرے کے خوب صورت لیمپ کی سفید روشنی میں دفعتاً اضافہ ہو گیا۔ سیاہ بادلوں سے ایک چاند نکل آیا۔ تاریک صحرا میں ایک یک بیک بجلی چمک اُٹھی۔ آہ! وہ حسین چہرہ، وہ دل کش خدّوخال! وہ ارغوانی ہونٹ! وہ آتشیں رخسار! وہ گداز جسم! مگر نزاکت کا پہلو لیے ہوئے۔۔۔۔ دنیا میرے گرد رقص کرنے لگی۔ نگاہوں میں ایک بہشت زار کھل گیا۔ ایسامحسوس ہوتا تھا۔ جیسے آسمان سے کوئی حُور اُتر آئی ہو۔ راجہ اِندر کے پرستان سے کوئی پری نکل آئی ہو۔ سبزابریشمیں لباس میں ایک ایساریشمیں جسم جو معلوم ہوتا تھا کہ قدرت نے سُرخ مخمل اور گلاب کی پنکھڑیوں سے بنایا تھا۔ ء
شفق میں ڈوبے ہوئے نور میں نہائے ہوئے
اُس کی شرمائی ہوئی شربتی آنکھیں، شراب کے دو پیمانے تھے جو مجھے دونوں جہان سے غافل اور مست کیے دے رہے تھے۔ وہ آہستہ آہستہ اُنہی مست آنکھوں کو جھکائے میرے قریب آئی۔ اُس کا وہی گلابی ہاتھ بڑھا۔ اور اُس نے میرے بازو کوآہستہ سے چھوا۔ دفعتاً ایسامعلوم ہوا جیسے میری آنکھیں کھل گئی ہوں۔ میں کرسی سے اُچھل پڑا اور میں نے بے اختیار ہو کراُس کا ہاتھ چوم لیا۔ اُس نے اپنی آنکھیں جھکا لیں اور شاید بات ٹالتے ہوئے بولی۔ "ہاں تو آپ کی وہ رام کہانی حقیقت تھی یا محض تخیّل؟ "میں نے اُسے مسہری پر بٹھاتے ہوئے جواب دیا۔ "پہلے صرف تخیّل مگر آج حقیقت۔۔۔۔ ! ‘‘
ہمایوں نے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ اُس کا نوکر کمرے میں داخل ہوا۔ بولا "احسان آیا ہے "یہ نام سن کر ہمایوں دفعتاً اپنی کرسی سے اُٹھ کھڑا ہوا۔ اور بولا۔ اچھا خدا حافظ۔ ناصر باقی داستان پھر کبھی۔۔۔۔ پھر کبھی کے کیا معنی؟ داستان توسن ہی چکے ہو البتہ اتنا کہنا باقی ہے کہ یہ داستان تقریباً ہر ہفتے دُہرائی جاتی ہے۔ معاف کرنا مجھے خیال نہ رہا کہ آج اتوار کا دن ہے۔۔۔۔ "میں نے کہا "تو اتوار کے دن کا تمھاری اِس عجلت سے کیا تعلق ‘‘۔
"تعلق یہ کہ احسان "اُس "کے ڈرائیور کا نام ہے۔ اور وہ مجھے بلانے آیا ہے "اتنا کہہ کر اور ٹوپی اُٹھا کر کمرے سے باہر نکل گیا۔
اختر شیرانی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے