الگنی کی تلاش میں بھٹکتا پیار

’’جھاگ نہیں بن رہا۔ ‘‘
’’تھوڑا پاؤڈر اور ڈالو نا۔ ‘‘
’’بہت جھاگ بن جائے گا۔ ‘‘
’’تمہارا کیا جاتا ہے۔ ‘‘
’’میرا کیا جائے گا؟ میرا ہی تو جاتا ہے۔۔ ۔ اچھا اسے بھی دھو ڈالو، اوراسے بھی۔ ‘‘
’’جھاگ مر جائے گا۔۔ ۔ ‘‘
’’کام چل جائے گا۔ ‘‘
’’بہت مشکل ہے۔ ویسے بھی الگنی چھوٹی ہے۔ ‘‘
’’الگنی بڑی کئے دیتا ہوں۔ ‘‘
’’مگر جھاگ کا کیا؟ اور اب پاؤڈر بھی نہیں۔ ‘‘
’’تم کیا ان سے دھوتی ہو۔ ‘‘
’’کون میں؟ اور کس سے بھلا۔ تم کیا سمجھے ؟‘‘
’’میں سمجھا۔۔ ۔۔ ‘‘
’’کیا سمجھے؟‘‘
’’ارے جھاگ نیچے گر رہا ہے۔ ‘‘
’’کچھ نہیں، لاؤ کیا دھونا ہے، کیا زندگی؟‘‘
’’رائیگاں گئی۔ ‘‘
’’قسمت؟‘‘
’’وہ تو پھوٹی نکلی۔ ‘‘
’’روپیہ پیسہ۔ ‘‘
’’ہاتھوں کا میل تھا۔ سو اتار پھینکا۔ ‘‘
’’تو جوانی۔ ‘‘
’’اسے ادھار پر لیا تھا، واپس کر دی۔ ‘‘
’’عزت۔ ‘‘
’’ٹکے بھاؤ بیچ دی۔ ‘‘
’’شہرت۔ ‘‘
’’بہت داغدار ہے۔ تمہارے بس کی بات نہیں۔ ‘‘
’’پھر حوصلے کا کیا۔ ‘‘
’’ماند پڑ گیا۔ ‘‘
’’اور جذبات۔ ‘‘
’’ان کا رنگ پھیکا پڑ گیا ہے۔ ‘‘
’’حسن ہی سہی۔ ‘‘
’’اب کہاں، ناپید ہو چکا۔ ‘‘
’’بشاشت۔ ‘‘
’’اس پر حالات کا پکا رنگ چڑھ چکا ہے۔ اب یہ نہ اترے گا۔ ‘‘
’’تو پھر اپنی کھال ہی اتار کر دو۔ ‘‘
’’کئی بار اتاری جا چکی، اب اتاری تو پھٹ جائے گی۔ ‘‘
’’جب کچھ دھلوانا ہی نہیں تو اتنا جھاگ کیوں بنوایا؟‘‘
’’پیار کو جو دھلوانا تھا۔ ‘‘
’’فقط ایک پیار کو؟‘‘
’’ہاں۔ ‘‘
’’پکا۔ ‘‘
’’پکا اور ہاں خوب رگڑ رگڑ کر دھونا اور اچھی طرح نچوڑنا۔ ‘‘
’’ارے کتنا گندہ ہے۔ ‘‘
’’ہاں صدیوں سے یونہی جو پڑا تھا، کسی الگنی کی تلاش میں۔ ‘‘

عامر صدیقی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے