نگاہ سینت کے رکھنے کی خو علاحدہ ہے

نگاہ سینت کے رکھنے کی خو علاحدہ ہے
یہ کائنات مرے چار سو علاحدہ ہے

ترا یہ عالم _صد رنگ و بو علاحدہ ہے
ہماری آنکھ کی پتلی میں تو علاحدہ ہے

کوئی تو فرق بھی لازم ہے ہجر و ہجرت میں
بناۓ آب الگ ہے،، لہو علاحدہ ہے

تمہارے نقش کسی سے مشابہت کے نہیں
ہمارا آئینہ بھی ہو بہو علاحدہ ہے

اب اسکی آنکھ سے پیتا ہوں جام سے ہٹ کر
سبو علاحدہ ،، ترک _ سبو علاحدہ ہے

میان _ دوستاں ڈھب اور ہے تکلم کا
ترے حضور مری گفتگو علاحدہ ہے

سہارتا ہوں میں سیماب ظرف خو اسکی
وہ میرا یار الگ ہے، عدو علاحدہ ہے

عجیب کشمکش _ راز و رمز ہے صاحب
میں اور ہوں،، میرا دل اور تو علاحدہ ہے

علاحدہ ہے میری جستجو کا ماخذ بھی
سفر الٹ ہے ، در _ آرزو علاحدہ ہے
سعد ضؔیغم

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے