ال گلہری

ال گلہری
گلہری ایک موذی جانور ہے۔ چوہے کی صورت، چوہے کی سیرت۔ وہ بھی ایذا دہندہ یہ بھی ستانے والی۔ چوہا بھورے رنگ کا خاکی لباس رکھتا ہے، فوجی وردی پہنتا ہے۔ گلہری کا رنگ چولھے کی سی راکھ کا ہوتا ہے۔ پیٹھ پر چارلکیریں ہیں، جس کو لوگ کہتے ہیں کہ حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا کا پنجا ہے۔ گلہری کی دم چوہے کے برخلاف ہے، چوہے کی دم پر بال نہیں ہوتے اس کی دم گپھےدار ہے۔ گلہری کا سر چپٹا ہوتا ہے، چوہے اور اس کے سر میں تھوڑا ہی فرق ہے۔ گویا دونوں کا دماغ یکساں بنایا گیا ہے۔ چوہا بھی آدمیوں کی چیزیں خراب کرنے کی تجویزیں مغز سے اتارتا ہے اور گلہری بھی۔ چوہا منہ سے کھاتا ہے اور اگلے ہاتھوں سے نوالہ اٹھا کر اسے کترتا ہے مگر گلہری کی طرح ہمیشہ نہیں کبھی کبھی اور گلہری تو ہمیشہ اوکڑوں بیٹھ جاتی ہے۔ ہاتھوں میں کھانے کی چیز لیتی ہے۔ دم ہلاتی جاتی ہے، تھرکتی ہے، پھدکتی ہےاورکترکترکرکھانا کھاتی ہے۔

چوہا بےچارا بلوں میں، بوریوں میں میلے کچیلے سوراخوں میں گھر بناتا ہے۔ گلہری بڑی تمیزدار ہے۔ یہ اکثرمکانوں کی چھتوں میں گھونسلا بناتی ہے،جس گھرمیں ان جناب کاجی چاہا بےپوچھے گچھے جاپہنچتی ہیں اوررضائی، تو شک، لحاف یاجوروئی دارچیزسامنےآئی اس کوکترڈالتی ہیں۔ اس میں سےروئی نکالتی ہیں اوراپنےگھرمیں اس کےگدّے بنا کربچھاتی ہیں۔ اورپھرنرم نرم بسترپر بچےدیتی ہیں۔

رات بھرگھر کی مالک ہیں۔ صبح ہوئی اور یہ چل چل ۔ چلل چلل، چل چل، چل، چلل چلل کہتی اپنی بولی میں خدا کی عبادت کرتی یا آدمی کو گالیاں دیتی ہوئی باہر نکل جاتی ہیں۔سارا دن ہےاوران کا پیٹ ہے۔ جنگل پہنچتی ہیں۔ پھل دار درختوں پر چڑھ جاتی ہیں اور خوب کھاتی پیتی ہیں۔ سڑکوں پر دوڑتی پھرتی ہیں۔ جہاں ذرا سا کھٹکا ہوا اور انہوں نے دونوں ہاتھ اونچے اٹھا کر جن کے پنجے جھکے ہوتے ہیں اورپیروں کے بل کھڑے ہو کر ادھر ادھر گھبرا کر دیکھا۔ چل چل کی دم کو ہلایا۔ کیونکہ ان کی دم ہر پل کے ساتھ تھرکتی ہے۔ کوڑے کی طرح تڑپ کربل کھاتی ہے اور بھاگ گئیں۔ گلہری کے بچے بھی چوہے کی طرح لال گوشت کی بوٹی ہوتے ہیں۔ ان پر بال نہیں ہوتے۔ آنکھیں بند ہوتی ہیں۔ کچھ دن بعد بال نکلتے ہیں۔ آنکھیں کھلتی ہیں اور دنیا میں غریب آدمی کے دوستانے والے اور بڑھ جاتے ہیں۔

میں نے اوپر کہا ال گلہری۔ عربی ال کو میں نے انگریزی دی کی طرح اس موذن سےالگ رکھا ہے۔ ملا دیتا تو گلہری کے کاٹنے کا ڈر تھا۔ بڑی شریر ہے، بڑی فتنی ہے۔ میری بادشاہی ہو تو سب سے پہلے گلہریوں کا قتل عام کراؤں اور اس کےزن بچے کو لہو میں پلوا دوں۔

میری خوبصورت چھت گیری میں جگہ جگہ بھمباقے لگا دیئےہیں۔ لکڑی لے کر مارتا ہوں تو کیا مجال باہر نکل جائے۔ چھت گیری کے اندر دوڑتی پھرتی ہے۔ میں دوڑتا دوڑتا ہانپ جاتا ہوں پسینہ سارے کپڑوں کو تر کر دیتا ہے، مگر یہ بےغیرت اچھلتی پھرتی ہے۔ ادھر سے ادھر ادھر سے ادھر۔

کونسل میں سوال

میرا ارادہ ہے کہ کسی آنریبل ممبر کونسل کو لکھوں کہ اب کےال گلہری کی بابت بھی ایک سوال کریں۔ جس کےالفاظ یہ ہوں۔ کیا گورنمنٹ کےعلم میں یہ امر موجود ہےکہ ہندوستان کی نہایت وفادار رعایا کو ایک موذی جانور گلہری نے بہت ستا رکھا ہے؟ گورنمنٹ کی وہ مساعی جمیلہ کونسل کو یاد ہیں جو عرصہ دراز سے چوہوں کے خلاف استعمال کی جاتی ہیں۔ یعنی ان کو پکڑ کر ہلاک کر دینے کا پورا بندوبست کر دیا گیا ہے۔ لہٰذا میں نہایت ادب سے یہ مسودہ پیش کرنا چاہتا ہوں کہ ال گلہری کے مسئلہ پر بھی توجہ کی جائے۔ اس جانور میں بھی پسو ہوتے ہیں۔ یہ بھی بیماریوں کی چھوت کو باہر سے گھروں میں لاتی ہے۔ یہ بہت خطرناک معاملہ ہے۔ گورنمنٹ میونسپل کمیٹیوں کوہدایت کرے، کہ آئیندہ گلہریاں ہر جگہ پکڑی جائیں اور ہلاک کی جائیں۔

مفتیان ہند سے استفسار

کیا فرماتے ہیں مفتیان دین بیچ اس مسئلہ کے کہ ایک گھریلو غیر پالتو جانور جس کو گلہری اور اس وقت ال گلہری بھی کہتے ہیں متبرک و مقدس کتابوں کو کاٹ ڈالتا ہے اور صریحاً کتب مقدسہ کی توہین کرتا ہے۔ آیا ایسے بدذات حیوان پر جو پرندہ ہے اپنے دوڑنے اور بھاگنے اور دیواروں، چھتوں پر پھرتی سے چڑھ جانے کے سبب۔ اور درندہ ہے اپنے نوک دار دانتوں کے ناجائز استعمال کرنے میں، موذی کا اطلاق عائد ہوتا ہے یا نہیں۔ اورقتل الموذی قبل الایذا (تکلیف پہنچانے سے پہلے کسی خطرناک جانور کو مارنا) کا حکم اس پرصادق آتا ہے یا نہیں۔

اے ال گلہری مجھے افسوس ہے کہ تیرا نام اس مضمون کے لکھنے سے اردو ادب میں شامل ہو گیا۔ میں نہ چاہتا تھا کہ تیرا ذکر ایک شیریں راحت جان زبان میں آئے، مگر کیا کروں جیسا تو نے مجھ کو ستا کر بےبس کیا ہے۔ ایسا ہی تیرا تذکرہ جبراً میرے قلم کے منہ میں آیا اور چل چل کرتا نکل گیا۔

خواجہ حسن نظامی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے