Akhir Car

ذرا دیر کی زندگی کے لیے خواب سب اک طرف رکھ دئیے

خواب سوچوں میں تھے

خواب آنکھوں میں تھے

خواب لفظوں میں تھے

خواب رنگوں میں تھے

خواب تھے جو مری چار سمتوں میں تھے

زندگی عمر بھر

چار سمتوں سے یہ دھوپ سہتی رہی

یوں ہی رہتی رہی

اور پھر ایک دن یوں ہوا

سبز خوابوں کی ٹھنڈی تپش چھوڑ کر

ایک موہوم سی روشنی کے لیے

اک ہمکتی چھلکتی ہنسی کے لیے

زندگی کے لیے

جو نہیں مل سکی اس خوشی کے لیے

اک ذرا دیر کی زندگی کے لیے

خواب سب اک طرف رکھ دئیے

سعود عثمانی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے