عجیب ہوتی ہے یہ محبت

عجیب ہوتی ہے یہ محبت

عجیب ہوتی ہے یہ محبت

نصیب والوں کے دل میں جب بھی یہ جاگتی ہے

تو پہلے نیندیں اُجاڑتی ہے

یہ جھومتی ہے، یہ ناچتی ہے

یہ پھیلتی ہے، یہ بولتی ہے

ہر ایک لمحہ ہر ایک وعدے کو تولتی ہے

یہ اپنے پیاروں کو مارتی ہے

صلیب ہوتی ہے یہ محبت

عجیب ہوتی ہے یہ محبت

یہ پھیلتی ہے تو پیڑ بنتی ہے، چھاؤں کرتی، یہ روپ دیتی

یہ چھاؤں کر کے بھی دھوپ دیتی

کبھی کبھی تو بس آپ اپنی رقیب ہوتی ہے یہ محبت

عجیب ہوتی ہے یہ محبت

لہو کی صورت رگوں میں دوڑے

یہ خواب بن کر نظر میں ٹھہرے

سحاب بن کر فلک سے برسے

اسے جو دریا میں ڈال آؤ تو اک سمندر کا روپ دھارے

کہیں جو صحرا میں گاڑ آؤ تو پھول بن کر دلوں میں مہکے

اسے جو دیوار میں بھی چُن دو تو ہر کلی میں ہو عکس اس کا

ہر اک گلی میں ہو رقص اس کا

حبیب ہوتی ہے یہ محبت

عجیب ہوتی ہے یہ محبت

کسی کسی کو نصیب ہوتی ہے یہ محبت

ڈاکٹر نجمہ کھوسہ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے