فروری 5, 2023
سعود عثمانی کی ایک اردو غزل

عجیب ڈھنگ سے میں نے یہاں گزارا کیا

کہ دل کو برف کیا ذہن کو شرارا کیا

مزاج درد کو سب لفظ بھی قبول نہ تھے

کسی کسی کو ترے غم کا استعارہ کیا

پھر اس کے اشک بھی اس کو ادا نہ کر پائے

وہ دکھ جو اس کے تبسم نے آشکارا کیا

کہ جیسے آنکھ کے لگتے ہی کھل گئیں آنکھیں

نگاہ جاں نے بہت دور تک نظارہ کیا

ہمیں بھی دیکھ کہ تجسیم نو سے گزرے ہیں

بدن کو شیشہ کیا، دل کو سنگ پارہ کیا

عجیب مزاج تھا تنہائی آشنا کہ سعودؔ

خود اپنا ساتھ بھی مشکل سے ہی گوارا کیا

سعود عثمانی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے