اجل کے لمحو

یہ کِشت اُلفت کی زرد مٹی

یہ سہمی شب کے اُداس تارے

سوال دستِ اجل کی جانب

ہزار حیرت سے تک رہے ہیں

ابھی لہو سے کسی بھی چہرے کا

نقش بننے میں دن پڑے تھے

زمیں کے آنچل سے بیج باندھے ہی تھے صبا نے

کہ جن سے زندہ دھڑکتی کونپل کو پھوٹنا تھا

سنہری ، نوخیز ، نرم کونپل

جو دلبری کے حسیں مناظر کا آئینہ تھی

جو چاند راتوں سے گزرے لمحوں کا نقش پا تھی

وہ ننھی ، معصوم ، بند پلکیں

کسی بھی روشن ، حسین ساعت

کسی بھی تیرہ ، اداس لمحے

سے بے خبر تھیں …

ادھورے ہونٹوں کی نغمہ گہ سے

نکلتی بے صوت ان صداؤں سے

گیت بننے میں

دن پڑے تھے

بہ نوکِ نشتر ہیں

آرزوئوں کے سارے ریشے

ستم نوازی کی داستاں بھی

بدن کی سلوٹ سے پھوٹتی

شاخِ بے اماں بھی

کہ جس پہ چاہت کے پھول آنے میں

دن پڑے تھے

اجل کے لمحو

بدن کی گٹھڑی سے

زندگی کا سراغ پانے

میں دن پڑے تھے

گلناز کوثر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے