عجب قفس تھا، عجب خوش نوا پرندہ تھا

عجب قفس تھا، عجب خوش نوا پرندہ تھا

نہیں وہ دل نہیں، اِک دوسرا پرندہ تھا

کلام کرتا ہوا، پنکھ پھڑپھڑاتا ہوا

چراغِ بام تھا یا شام کا پرندہ تھا

ہر ایک جانتا تھا گرم پانیوں کا سراغ

سو جو بھی ڈار میں تھا رہنما پرندہ تھا

روپہلی جھیل کے پہلو میں تھی سیہ بندوق

اور ان کی سمت اترتا ہوا پرندہ تھا

پھر ایک ہُوک نے تنہائی دور کر دی مری

بہت قریب کوئی دل زدہ پرندہ تھا

عجیب حالت ہجرت تھی قبل ہجر سعودؔ

مرے وجود میں پر تولتا پرندہ تھا

سعود عثمانی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے