آج بھی میرا نہیں اور مرا کل بھی نہیں

آج بھی میرا نہیں اور مرا کل بھی نہیں
سچ تو یہ ہے کہ مرے ہاتھ میں اک پل بھی نہیں
وہ کہ تسلیم تو کرتا ہے محبت میری
میں ادھورا بھی نہیں اور مکمل بھی نہیں
کیسی دانائی کہ مر جانا کسی کی خاطر
میرے جیسا کوئی اس دنیا میں پاگل بھی نہیں
کیا غضب ہے کہ وہ پھر بھی ہے قیامت آسا
رُخ پہ غازہ بھی نہیں آنکھ میں کاجل بھی نہیں
کیا خبر کون سے موسم میں پڑا ہوں اب کے
دل میں صحرا بھی نہیں آنکھ میں بادل بھی نہیں
وہ جو دیتا ہے مجھے غیب سے یوں رزقِ سخن
مجھ پہ ظاہر تو نہیں ہے مگر اوجھل بھی نہیں
جانے یہ کیسا سفر ہے کہ چلے جاتے ہیں
آنکھ کھلتی نہیں اور ہاتھ میں مشعل بھی نہیں
دوست! کس بات پہ موقوف ہے اب تیرا سفر
پاؤں زخمی بھی نہیں جسم ترا شل بھی نہیں
سعدؔ اب دل کو سنبھالیں کہ کوئی کام کریں
مسئلہ وہ ہے کہ اب جس کا کوئی حل بھی نہیں
سعد اللہ شاہ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے