ایسے دیکھا کہ دیکھا ہی نہ ہو​

ایسے دیکھا کہ دیکھا ہی نہ ہو​
جیسے اُس کی مجھے پروا ہی نہ ہو​

یہ سمجھتا ہے ہَر آنے والا​
میں نہ آؤں تو تماشا ہی نہ ہو​

بعض گھر شہر میں ایسے دیکھے​
جیسے اُن میں کوئی رہتا ہی نہ ہو​

مجھ سے کترا کے بھلا کیوں جاتا​
شاید اُس نے مجھے دیکھا ہی نہ ہو​

رات ہر چاپ پہ آتا تھا خیال​
اُٹھ کے دیکھوں، کوئی آیا ہی نہ ہو​

کیسے چھوڑوں در و دیوار اپنے​
کیا خبر لوٹ کے آنا ہی نہ ہو​

ہیں سبھی غیر تو اپنا مسکن​
شہر کیوں ہو، کوئی صحرا ہی نہ ہو​

یوں تو کہنے کو بہت کچھ ہے شعورؔ​
کیا کہوں، جب کوئی سنتا ہی نہ ہو​

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے