ایسےایسے لوگ

ایسےایسے لوگ

کیسے کیسے‘ایسے ایسے ہو گئے
ایسے ایسے‘ کیسے کیسے ہو گئے

تو صاحبو! ابھی تو ہم کیسے کیسے لوگوں کے چنگل میں دم سادھے زندگی کو گزارنے کی کوشش کر رہے تھے کہ ایسے ایسے لوگوں نے ہلہ بول دیا۔۔۔شاید ہمارے چاروں طرف ایسے ویسے لوگوں کا ہی بسیرا ہے‘ہو سکتا ہے ہمارا تعلق بھی ان ہی میں سے کسی طبقے سے ہو۔۔اللہ نے چاہا تو ہم جیسے لوگوں کی جھلکیاں بھی آپ کو دکھائی جائیں گی اور کبھی موقع ملا تو آپ جیسے لوگوں کو بھی آئینہ دکھانے سے باز نہیں آئیں گے۔۔آخر آپ بھی تو اسی بھری پری دنیا کے باشندے ہیں کوئی آسمان سے سرخاب کے پر لگا کر تو اترے نہیں ہیں۔۔۔
اب دیکھئے نا کہ ایک بات کبھی ہماری سمجھ میں نہ آ سکی کہ لوگ سیدھی طرح بات کیوں نہیں کرتے‘کنایہ موجود ہو تو اشارے کو کیا ضرورت ہے۔۔اور اشارے کرناکون سی ایسی شریفانہ بات ہے یہ تو صرف ٹریفک کے سپاہیوں کوزیب دیتی ہے یا پھر گرائمر پڑھتے ہوئے طوعاًً و کرہاً اسم اشارہ پڑھا جا سکتا ہے۔۔مگر کیا نہیں جا سکتا۔۔اسم اشارہ میں فاعل کو کیا کہتے ہیں یہ ہمیں معلوم نہیں البتہ ہم جو ان اشاروں کی زد میں ہوتے ہیں یقیناً شارہ علیہ ہوں گے۔۔
سیاست دان ہوں کہ خطیب‘شاعر ہوں یا قوال سب اس طرح پینترے
بدل بدل کر آنکھیں نکال نکال اور کف اڑا اڑا کر بات کرتے ہیں جیسے سامعین کو کچا کھانے کا ارادہ رکھتے ہیں‘بےچارے بچے بھی ماؤں کی گود میں ڈر کے مارے دبک جاتے ہیں۔۔
ہمارے بچپن میں ایک شاعر تھے‘ آج بھی زندہ سلامت ہیں اللہ ان کو عمر خضر عطا فرمائے وہ رومی ٹوپی پہنتے تھے اور منہ میں پان کی بیڑا رکھ کر شعر سناتے تھے‘شاید اس طرح شعر‘ پان کے رنگ سے مزید رنگین ہو جاتے ہیں‘ اب موصوف منہ آسمان یا چھت کی طرف کر لیتے تا کہ پیک کے چھینٹے سننے والوں کے منہ پر نہ گریں اور ٹوپی کا پھندنا ہر لفظ پر اس کی شدت‘ حدت اور ملائمت کے مطابق ہلتا تھا۔۔ہم بہن بھائی شعر تو کیا خاک سمجھتے البتہ یہ منظر دیکھنے ضرور جاتے تھے۔۔
بہرحال آج کے پاپ سنگرز کو تو فن اشارہ میں بھی کوئی خصوصی ایوارڈ ضرور ملنا چاہیے۔۔جنون گروپ تو اس آرٹ کا ماہر ہے۔۔علی عظمت جب اپنے گنجے سر کے ساتھ بلبلا بلبلا کر منہ پھاڑ پھاڑ کر بابا بلھے شاہ کا کلام ‘بلھیا کی جانا میں کون‘ گاتا ہے تو سامعین کے ساتھ ساتھ بابا جی بھی قبر میں تڑپ اٹھتے ہوں گے اور اس دن کو کوستے ہوں گے‘
‘ جب انہوں نے یہ اشعار کہے اور ان کا بس نہیں چلتا ہو گا کہ اس کی گچی مروڑ کر کہیں کہ خدا کے واسطے چپ کر جائیں خود بتا دیتا ہوں میں کون ہوں۔۔‘‘
یہاں تک کہ سیدھی سادی گھریلو خواتین بھی اسی آزار میں مبتلا نظر آتی ہیں۔۔بغیر اشارے کے وہ بھی بات نہیں کرتیں۔۔
اشارہ کیا چیز ہے خواتین کی تو ہر بات ہی بلائے جان ہوتی ہے۔۔
بلائے جاں ہے غالب اس کی ہر بات
عبارت کیا ‘ اشارت کیا ‘ ادا کیا
ہماری ایک عزیزہ ہیں وہ ہر بات عملاً کرتی ہیں۔۔شاید ان کے اندر کوئی اداکارہ چھپی بیٹھی ‘جھاتیاں‘ مارتی ہیں۔۔ایک دن ہم نے شومئی قسمت ان سے سرسوں کا ساگ پکانے کی ترکیب پوچھ لی۔۔انہوں نے فوراً بڑے اہتمام سے پہلے خیالی ساگ کو دھویا اور پھر اپنی دو انگلیوں سے قینچی کا کام لیتے ہوئے اسے باریک باریک کاٹا پھر پتیلی میں ڈال کر چولہے پر چڑھا دیا۔۔ان کے اشاروں کت ساتھ ساتھ ہماری گردن اوپر نیچے دائیں بائیں ہوتی رہی۔۔ہم خاصے مسحور ہو گئے تھے۔۔
‘‘لو بھئی اب تم اس میں ادرک اور پیاز کاٹ کر ڈال دو‘‘بلکہ انہوں نے خود ہی یہ خیالی پیاز اور ادرک بھی کاٹ کر ڈال دیا ہمارے منہ سے اچانک نکلا۔۔
‘‘دیکھئے دیکھئے انگلی نہ کاٹ بیٹھئے گا‘‘
ان کے ہاتھ رک گئے۔۔انہوں نےپہلے اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھا پھر حیران ہو کر ہماری طرف نظر ڈالی۔۔کچھ سوچا۔۔سر کو جٹھکا دیا۔۔ہمیں سٹھیایا ہوا سمجھ کر پھر سے ساگ پکانے لگیں۔۔
‘‘جب گل جائے تو خوب گھوٹو‘‘انہوں نے خیالی گھوٹنی کے ساتھ پوری طاقت سے ساگ گھوٹنا شروع کر دیا۔۔اس مشقت نے ان کو پسینہ پسینہ کر دیا۔۔
‘‘اب جناب اصلی گھی میں پسے ہوئے لہسن کا بگھار بنا کر ڈال دو۔۔ساتھ ہی ہری مرچیں بھی ڈال دو،،تیار ہو جائے تو ڈونگے میں نکال کر اوپر تازہ مکھن کا پیڑا رکھ دو۔۔ساگ تیار ہے‘‘۔۔
ہم نے اپنے منہ میں بھرا پانی بھر کر پوچھا۔۔‘‘مگر یہ ساگ تو پھیکا ہے‘‘۔۔
؛؛کیا مطلب‘‘؟ انہوں نے عینک کے شیشوں کے پیچھے اپنی آنکھیں گھمائیں۔۔ہم شاید اب تک ان کے جادو بھرے اشاروں کی وجہ سے ٹرانس میں تھے۔۔
؛مطلب یہ کہ نمک تو ڈالا نہیں‘‘۔۔
کہاں ہے ڈالا؟‘‘
ساگ میں‘‘۔۔
‘‘کہاں ہے ساگ‘‘۔۔؟
‘‘وہ جو ابھی آپ نے پکایا ہے‘‘۔۔
وہ خفا سی ہو گئیں‘‘۔۔میں نے ساگ پکایا ہے۔۔لگتا ہے تمہارا دماغ چل گیا ہے۔۔میں نے ترکیب بتائی ہے کہ ساگ پکایا ہے‘‘۔۔
انہوں نے اپنا برقعہ اٹھایا اور کھڑی ہو گیئں۔۔
کہاں چل دیں؟مکئی کی روٹی کی ترکیب تو رہ گئی۔۔‘‘
انہوں نے ہمیں گھور کر دیکھا اور یہ جا وہ جا۔۔اب بھلا آپ بتائیے کہ ہم اس ساگ کو کاہے سے تناول فرمائیں گے۔۔

××××××××
یہ تو تھیں ہماری عزیزہ‘ مگر ہمارے شوہر کے عزیز تو ان سے بھی چار ہاتھ آگے ہیں۔۔بس ہوں سمجھ لیں کہ جو فرق مارشل آرٹ اور ان ڈور گیمز میں ہوتا ہے‘ وہی عزیز اور عزیزہ کے درمیان تھا۔۔وہ ایک لمحے کو نچلا نہیں بیٹھ سکتے تھے۔۔ان کے اشاروں میں صرف ہاتھ نہیں بلکہ جسم کا ہر عضو پیروں سمیت حصہ لیتا تھا۔۔۔بچے ان کی آمد سے بہت خوش ہوتے تھے سرکس یا مداری کا تماشا دیکھنا کسے اچھا نہیں لگتا۔۔ایک روز وہ اپنی بیگم بچوں سمیت تشریف لائے۔۔چائے کی ٹرالی سامنے دھڑی تھی۔۔وہ مزے سے چائے کی چسکیاں لے رہے تھے۔۔
‘‘اس ویک اینڈ پر کیا کرتے رہے؟‘‘
‘‘آپ کو پتا ہے بھائی جی! بندے کو شکار کا کتنا شوق ہے‘خواہ وہ کسی چیز کا ہو۔۔بس یہ ایک بیگم نہیں پھنستیں‘خواہ ہم کتنے جال ڈالیں۔۔‘‘وہ ہنسے۔۔
‘‘بڑے آئے تیس مار خان‘ آپ خالی مکھیاں ہی مار سکتے ہیں۔۔ایک چوہے نے شامت بلا رکھی ہے ہر چیز کتر کر رکھ دیتا ہے‘ کبھی برتنوں میں گھستا ہے۔۔ہم نے خوشامد درامد کی کی اس کو مار دیں تا کہ جان چھٹے۔۔
حضرت کو چوہا نظر بھی آ گیا مگر یہ تو چھلانگ مار کر صوفے پر جا چڑھے۔۔لگے چیخنے کہ بلاؤ باہر سے کسی مرد کو۔۔ہم نے یاد دلایا کہ اتفاق سے آپ بھی مرد ہیں‘ بولے میں تو صاحب ہوں۔۔تم کسی مالی‘ چوکیدار‘ ڈرائیور کو بلاؤ۔۔اب آپ بتائیے کہ چاہا کیا کسی کے آنے کا انتظار کرتا ان کی چیخم دھاڑ سن کر اڑنچھو ہوگیا۔۔۔
بیگم! اب ہم کوئی شکاری بلے تو ہیں نہیں جو چوہوں کا شکار کرتے پھریں۔۔ہم بڑی چیزوں کے شکاری ہیں ان حقیر چیزوں کے نہیں۔۔بہرحال‘ تو بھائی جی! اس بار ہم دوستوں نے حسن ابدال جھبلاہٹ پر شکار کا پروگرام بنایا میں نے اس بار جال سے مچھلی پکڑنے کا ارادہ کیا۔۔‘
وہ چائے کی پیالی ٹرالی میں رکھ کر کھڑے ہو گئے۔۔
‘بس بھائی جی!میں نے جو جال ڈالا‘‘ انہوں نے ساتھ والی میز سے میزپوش گھسیٹ کر نہایت ماہرانہ انداز میں خیالی پانی میں دے مارا۔۔اور وہ ناہجار میز پوش سیدھا ہمارے شوہر نا مراد کے سر پر پڑا اور۔۔گردن کے گرد بل کھا کر یوں لپٹ گیا جیسے پھانسی کا پھندا ڈالنے کے لیے پہلے مجرم کے منہ پر نقاب چڑھایا جاتا ہے۔۔ہم سب بھونچکے دیکھ رہے تھے۔۔بے چارے شوہر صاحب اس بلا کو سر سے اتارنے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے لگے۔۔انہوں نے فخر سے ہماری طرف دیکھا۔۔
‘‘دیکھی ہماری فنکاری تو بلکل آپ کے سر مبارک کی طرح ایک عظیم الحبثہ مچھلی ہمارے جال میں پھنس گئی۔۔اب ہم ہیں کہ اسے کھینچ رہے ہیں۔۔‘‘
انہوں نے کھینچ کر دکھایا۔۔شکر ہے اس وقت تک ان کا سر اس میز پوش سے برآمد ہو چکا تھا۔۔ورنہ کچھ بعید نہ تھا کہ وہ ان ہی کو کھینچنے لگتے۔۔
‘ادھر وہ نا معقول مچھلی ہمیں گھسیٹ رہی تھی۔۔آخر ہم نے ایک آخری زور لگایا۔۔ادھر مچھلی باہر آئی ادھر ہم چاروں خانے چت ہو گئے۔۔
اور وہ خود دھڑام سے پیچھے جا گرے۔۔ان کا سر زور سے ٹرالی سے ٹکرایا۔۔ٹرالی میں ایک زلزلہ سا آ گیا۔۔بسکٹ ہوا میں اڑنے لگے۔۔کیک پلیٹ سے نکل کر ان کی مچھلی کی طرح قالین پر جا پڑا۔۔چائے پیالیوں سے چھلک پڑی۔۔انہوں نے گھبرا کر ان کے سر کا جائزہ لیا کہ ضرب کتنی شدید ہے‘مرہم پٹی کی ضرورت تو نہیں مگر ہر چیز سے بے نیاز اپنا سر ہلاتے ہوئے بولے۔۔
‘‘کیوں بیگم! کتنی بڑی مچھلی تھی۔۔کیا تم نے کبھی اتنی بڑی مچھلی دیکھی تھی؟؟‘‘
‘ہاں ابو ہم نے دیکھی تھی جب ہم امریکہ گئے تھے فلوریڈا میں سی ورلڈ نہیں لے گئے تھے آپ۔۔‘‘
‘‘ہم امریکہ کی نہیں ‘یہاں کی بات کر رہے ہیں۔۔‘‘وہ جھنجھلا گئے۔۔
بیگم بولی‘‘ہمیں سائز سے زیادہ اس بات پر حیرت تھی کہ اب مچھلیاں پانی میں سے مسالہ لگی ریڈی تو کک کی حالت میں نکلنے لگی ہیں۔۔اٹامک ایج ہے اکیسویں صدی ہے جو بھی ہو وہ کم ہے۔۔‘‘
وہ کچھ کھسیا گئے۔۔بھائی وہ مچھلی پھر ہم جن اڈے پر لے گئے تھے نا۔۔ وہاں صاف کروا کر مسالہ لگوایا تا کہ آپ کو کچھ تردد نہ کرنا پڑے۔۔‘‘
‘‘کتنا مزہ آئے ابو!اگر مچھلیاں تلی ہوئی نکلا کریں‘
امی کو فرائی نہ کرنہ پڑیں۔۔‘‘
‘‘تم اپنی چونچ بند رکھو۔۔سر کھانی کی بجائے یہاں آکر میرا سر دباؤ۔۔‘‘
یار! تم نے وہ مچھلی جھبلاٹ کے بجائے اڈے سے تو نہیں پکڑی تھی؟۔۔‘‘

‘‘یہ سراسر بدگمانی ہے۔۔اور اگر گمان گناہ ہوتے ہیں۔۔آپ نے ہماری مہارت پر پانی پھیر دیا۔۔‘‘
‘‘کون سا پانی‘ جھبلاٹ کا؟۔۔‘ہم نے بھی ہنس کر پوچھا۔۔
‘‘تمہاری مہارت پر نہیں اشارت پر پانی پھر گیا۔۔
اب سچ سچ اگل دو کہ وہ کیا چیز تھی جو تم نے پکڑی تھی۔۔کیا وہیل مچھلی کی آل اولاد تھی۔۔‘
‘نہیں بھائی جی۔۔‘وہ مسلسل اپنا سر سہلا رہے تھے۔۔
‘‘کوئی گومڑ وومڑ تو نہیں پڑ گیا سر میں؟۔۔‘
‘‘لگ تو رہا ہے‘دراصل وہاں جھبلاٹ کے کنارے کوئی ٹرالی نہیں تھی۔۔اس لیے منہ سر بچ کیا تھا۔۔‘انہوں نے بچوں کو سر کے ٹکور کے لیے برف لانے کو کہا۔۔
‘ہاں میاں! گمان کے علاوہ ایک چیز اور بھی ہوتی ہے‘یعنی سچ اور گپ‘اس کے بارے میں کیا کہتے ہو؟‘‘
انہوں نے ٹھنڈا سانس بھرا۔۔‘‘دراصل وہ کسی بدنصیب کی رضائی تھی جو نہ جانے کیسے جھبلاٹ میں جا گری اور پانی پی پی کر بارہ من کی دھوبن بن گئی تھی۔۔‘‘
×××××
ایک بار جو وہ تشریف لائے تو گنگے بنوٹ اور لاٹھی چلانے پر تقریر فرمانے لگے۔۔
‘‘بھئی بروسلی کیا چیز ہے۔۔اگر اس کا سامنا کسی بنوٹ یا گنگے کے ماہر سے ہو جاتا تو اس کے غبارے کی ساری ہوا نکل جاتی۔۔‘‘انہوں نے ایک خالی غبارے سے ایک زوردار آواز کے ساتھ ہوا خارج کی تو بچے ہنسنے لگے۔۔دراصل ان کو دیکھتے ہے بچے اپنا سارا کھیل کود چھوڑ چھاڑ ان کے گرد پروانوں کی طرح جمع ہو جاتے تھے۔۔
‘‘یہ حقیقت ہے کہ جوڈو کراٹے ہمارے اس فن کے سامنے پانی بھرتے ہیں۔۔ارے بھائی اگر بندہ برستی بارش میں لاٹھی چلاتا نکل جائے تو کیا مجال کہ اس پر پانی کا ایک قطرہ بھی گرے۔۔وہ بلکل سوکھا گھر پنہچ جائے گا۔۔انوکی کا مقابلہ اگر کسی ایسے سے ہوتا تو مونڈھا انوکی کا نکلتا۔۔بلکہ دونوں مونڈھوں کے علاوہ اور بھی بہت کچھ نکل جاتا۔۔‘‘
‘‘چچاجان!آپ ہمیں کر کے دکھائیں‘ہماری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا۔۔‘‘
‘‘تو بھائی اس میں ایسی کیا بات ہے۔۔ابھی کر کے دکھاتے ہیں۔۔ہاتھ کنگن کو آر سی کیا ہے۔۔‘‘
‘‘تو کیا لاٹھی چلانے سے پہلے ہاتھ میں کنگن پہننے پڑتے ہیں اور آر سی کی بوتل پینی پڑتی ہے۔۔‘‘ایک صاحبزادے حیران ہو کر بولے۔۔
‘‘ارے بھئی‘یہ تو ایک محاورہ ہے۔۔یہ نئی نسل کیا جانے کہ محاورے کیا ہوتے ہیں۔۔تم ذرا دوڑ کر جاؤ اور ایک لاٹھی لے آؤ پھر دیکھو ہمارے کرتب‘‘۔۔
‘‘تمہارے کرتب تو ہم دیکھتے ہی رہتے ہیں لیکن یہ لاٹھی آئے گی کہاں سے۔۔‘‘انہوں نے پوچھا۔۔
‘‘ہم تو دہشت گردی کے الزام سے بچنے کے لیے ہر قسم کی لاٹھیاں ڈنڈے‘دستے سوٹے سوٹیاں کھر سے غائب کر دی ہیں۔۔‘‘ہم نے بھی لقمہ دیا۔۔
‘‘مچھر دانی کا بانس تو ہوگا‘‘
‘‘کیسی مچھر دانی؟وہ زمانے گئے جب مچھر دانی کے پنجرے میں کبوتر بنے سوتے تھے اب تو میٹ اور جلیبی کا زمانہ ہے۔۔‘‘
؛؛بھئی کوئی چارپائی تو ہو گی۔۔اس کی چوکاٹھ کا ڈنڈا نکال لاؤ۔۔‘‘
‘‘تم کس دور کی پیداوار ہو۔۔ہر متروک چیز کا نام لے رہے ہو۔۔آج کل بیڈز ہوتے ہیں۔۔گاؤں والے بھی ڈبل بیڈ سے کم نہیں دیتے بیٹی کو جہیز میں۔۔اگر کوئی ہوتی ہے تو وہ لوہے کی فولڈنگ چارپائی ہوتی ہے۔۔‘
‘‘جاؤ بیٹا!کسی درخت کی بڑی سی شاخ توڑ لاؤ۔۔‘‘
‘‘تم نے یہ فن کہاں سے سیکھا ہے۔۔؟‘‘انہوں نے پوچھا۔۔
‘‘کیا فرق پڑتا ہے اس سے بھائی جی!اگر کسی کا بیاہ نہ ہوا ہو تو کیا اس نے بارات بھی نہیں دیکھی ہوتی۔۔‘
‘‘کیا تم نے بارات دیکھی ہے؟‘‘
‘‘کیا ایک دفعہ ایک صاحب کو یہ کرتب دکھاتے دیکھا تھا۔۔‘‘

چناچہ ایک شاخ لائی گئی جس کو چھیل چھال کر صاف ستھرا کیا گیا۔۔بچے بڑے شوق سے دیکھ رہے تھے۔۔اور بھاگم بھاگ ان کا ہر حکم بجا لا رہے تھے۔۔البتہ ہم اپنی باورچی خانے کی چھری کی بربادی پر کڑھنے کے ساتھ ساتھ جل تو جلال تو کا ورد کر رہے تھے کہ نہ جانے یہ دیسی بروسلی کیا تماشا دکھاتا ہے۔۔
‘‘تو لو بھئی تیار ہو جاؤ۔۔دور ہٹ کر بیٹھو میرے راستے میں نہ آنا۔۔
کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے
رن ایک طرف‘ چرخ کہن کانپ رہا ہے

پھر تو اس شیر نے وہ کد کڑے سے لگائے کہ رن اور چرخ کہن کے ساتھ ساتھ ہم سب نے بھی کانپنا شروع کر دیا ۔۔بچے صوفے کے پیچھے جا چھپے۔۔اور وہاں سے اچک اچک کر جانکنے لگے۔۔وہ بے ہنگم طریقے سے لاٹھی گھماتے کھبی ادھر چھلانگ لگاتے تو کبھی دوسری طرف۔۔ایک دفعہ جو چھڑی چلائی تو ہمارے شوہر نامدار کے سر پر رکھی پٹھانی ٹوپی لے اڑے۔۔یہ بے چارے تو مارے ڈر کے صوفے پر تقریباَ لیٹ گئے۔۔ملازمیں بھی گھبرا کر کمرے میں آ گئی۔۔اور منہ میں انگلیاں دبا کر محو تماشا ہو گئیں۔۔اس کے بعد تو کچھ نہ پوچھیئے‘پہلے تو کھڑکی کا پردہ ریلنگ سمیت آکے گرا۔۔پھر ایک پیتل کا گلدان لڑھکنیاں کھانے لگا۔۔ڈائننگ ٹیبل کی شیٹ ان کی لاٹھی میں پھنس کر دیر تک جھنڈے کی طرح لہراتی رہی۔۔جسے انہوں نے ایک جھٹکے سے جو پھینکا تو وہ ماسیوں کے سر پر جا پڑی وہ بے چاریاں ہڑبڑا کر باہر بھاگ گئیں۔۔میز پر پڑے اخبار مرغ بسمل کی طرح پھڑ پھڑانے لگے۔۔خود ان کا حلیہ دیکھنے کے قابل تھا۔۔بال اور داڑھی ہوا میں لہرا رہی تھی۔۔شلوار میں جو ہوا بھری تو غبارہ بن گئی۔۔آنکھیں ابل کر باہر آ گئیں۔۔پسینہ پانی کی طرح بہہ رہا تھا۔۔ہماری تو گھگھی بندھ گئی کہ نصیب دشمناں کہیں ہارٹ اٹیک نہ ہو جائے۔۔اور ہمارے سر ان کے داغ مفارقت کی تہمت نہ لگ جائے۔۔ایک بار جو کدکڑا مارا تو وہ لانگ جمپ میں بدل گیا اور موصوف دیوار سے ٹکرا کر چاروں شانے چت ہو گئے۔۔ہم نے تو خوف سے آنکھیں بند کر لیں کہ شاید حضرت دنیا سے کوچ کر گئے ہیں۔۔یہ گھبرا کر اٹھے انہیں ہلایا جلایا۔۔
‘‘خیریت سے تو ہو نا‘‘؟؟
انہوں نے ہانپتے ہوئے مگر بڑے فخر سے پوچھا۔۔کہیے کیا رہا؟‘‘
‘‘فنٹاسٹک! اب اٹھو بھی۔۔‘‘
‘‘اٹھنا اب ہمارے بس کی بات نہیں لگ رہی‘کسی ملازم کو بلوائیں جو ہمیں آن کر اٹھائے۔۔‘
بچے بھی اپنی پناہگاوں سے نکل کر ان کے اردگرد جمع ہو گئے۔۔۔
‘‘چچا جان!اس مارشل آرٹ کے بعد آدمی خود اٹھ نہیں سکتا ہے۔۔‘‘
‘‘نہیں میرے یار!میں نے تو پہلی بار اس فن کا مظاہرہ کیا ہے نا تو شاید میرے کچھ پٹھے کھنچ گئے ہیں۔۔‘
بمشکل کھینچ کھانچ کر انہیں اٹھایا گیا۔۔بلکہ بعد میں گھر بھی پہنچوایا گیا کیونکہ وہ گاڑی چلانے کے قابل نہیں تھے۔۔کئی دن بستر پر پڑے ٹکور کرواتے رہے۔۔ہلدی دودھ اور یخنی پیتے رہے۔۔شکر ہے ہڈی پسلی بچ گئی تھی۔۔
اس کے باوجود جب بھی عیادت کے لیے فون کیا۔۔یہی کہا کہ لاٹھی ٹھیک نہیں تھی۔۔اگلی بار وہ خود ٹھیک قسم کی لاٹھی لایئں گے۔۔
‘‘یادش بخیر ہمیں اپنی ایک پروفیسر یاد آرہی ہیں۔۔وہ آدھے شیشیے کی ریڈنگ گلاسز لگاتی تھیں۔۔اور اس کو ناک کی پھننگ پر رکھتی تھیں۔۔جب دور دیکھنا ہو یا ہمیں گھورنا ہوتا تو یہ کار خیر وہ عینک کے اوپر سے سر انجام دیا کرتی تھیں۔۔لیکچر دیتے دیتے جب کوئی ایسا پوائنٹ آتا جو ان کے نزدیک بڑے کمال کا ہوتا تو وہ ہماری طرف داد طلب نظروں سے دیکھتیں۔۔اس وقت ان کا منہ کھلے کا کھلا رہ جاتا‘ہماری سمجھ میں نہ آتا کہ ہم اس منہ کو بند کرنے کے لئے کیا جتن کریں۔۔سبحان اللہ کہیں کہ ماشاءاللہ یا مکرر ارشاد کہیں۔۔مکرر ارشاد تو شاید شاعروں سے کہا جاتا ہے۔۔مگر آج کے شاعر تو اس قدر ڈھیٹ واقع ہوئے ہیں کہ آپ خواہ کچھ کہیں یا نہ کہیں وہ ارشاد پر ارشاد کیے جاتے ہیں۔۔ایک شعر کو اتنی دفعہ دہراتے ہیں کہ جی چاہتا ہے کہ یا تو شاعر کی ‘گچی‘ مروڑ دی جائے یا خود سر پر پاؤں رکھ کر بھاگ کھڑے ہوں۔۔
تو بات پروفیسر صاحبہ کی ہو رہی تھی۔۔چند سیکنڈ ان کا منہ ‘‘او‘‘ انگریزی کی طرح کھلا رہتا اور پھر لیکچر شروع ہو جاتا۔۔ایسا لگتا تھا کہ ان کے اندر میوٹ(mute) کا کوئی بٹن فٹ ہے۔۔جو وقفے وقفے سے دبتا اور چالو ہوتا رہتا ہے۔۔بعض اوقات تو ایسا ہوتا کہ آدھی کلاس کا منہ بھی گول ہو کر کھل جاتا اور ہم تو لیکچر سننے کے بجائے اس انتظار میں رہتے کہ کب موصوفہ کا بٹن دبے گا۔۔اور وہ ساکت ہو جائیں گی اور پھر آٹومیٹک بٹن دوبارہ چالو ہو گا۔۔
ایک اور پروفیسر تھیں ان کا یہ عالم تھا کہ لگتا تھا لیکچر نہیں دے رہیں‘ کسی سخت کرب سے گزر رہی ہیں۔۔وہ اپنے ہاتھ بری طرح مروڑتیں۔۔ہمیں یقین تھا کہ اگر ہم ان کے کہیں آس پاس ہوتے تو وہ ہمیں بھی اپنی استخوانی انگلیوں سے مروڑ ڈالتیں۔۔چہرے پر اذیت کے آثار دیکھ کر پوری کلاس کا رونے کو جی چاہنے لگتا آخر انسان کو درد دل کے واسطے پیدا کیا گیا ہے۔۔ہم طالب علم تھے تو کیا ہوا انسان بھی تو تھے۔۔یہ تو تھے پرانے قصے جب آتش جوان تھا۔۔یہ ابھی کی بات ہے۔۔
ہماری ایک ڈاکٹر دوست ہیں۔۔انہیں ہر وقت ہماری صحت کی فکر ستاتی رہتی ہے۔۔ان کا بس چلے تو ہمارا‘‘آب و دانہ‘‘ہی بند کر دیں اور صرف ہوا پر زندہ رہنے کا مشورہ دیں۔۔جیسے ہی ہم شوق سے سری پائے یا نہاری کی طرف ہاتھ بڑھاتے تو وہ چلاتیں۔۔
‘‘یہ کیا غضب کر رہی ہو‘ ہارٹ اٹیک کروانا ہے‘‘۔۔
ہمارا ہاتھ فوراَ رک جاتا۔۔مٹھائی تو ہمارے لئے شجر ممنوعہ بن چکی تھی۔۔ہزار رالیں ٹپکیں مگر ان کی موجودگی میں یہ قطعی ممکن نہ تھا کہ ہم ذرا سی گلاب جامن بھی آنکھ بچا کر اڑا سکیں۔۔اس معاملے میں وہ اقبال کی ‘شاہینہ‘ سے کم نہیں تھیں۔۔ادھر ہمارا ہاتھ بڑھا ادھر وہ کھنکاریں۔۔
‘‘کچھ اپنا خیال کر لو۔۔تم بار بار کیوں بھول جاتی ہو کہ تمہیں شوگر ہو چکی ہے۔۔تمہارے اندر تو خود مٹھائی کی دکان کھل چکی ہے اب اور مٹھائی کھا کر کیا کرو گی۔۔‘
جامنوں اور فالسوں پر نمک ڈال کر کھانے کی شدید مخالف ہیں۔۔‘بلڈ پریشر ابھی تو قابو میں ہے نا مگر تم دماغ کی رگ پھٹوائے بغیر باز نہیں آؤ گی۔۔‘‘

انہیں ہمارے مرچ مسالے پر بھی اعتراض ہے۔۔
‘‘اتنی مرچیں کھانے کے بعد تمہیں معدے کا السر تو ضرور ہو گیا ہو گا۔۔‘‘
‘ابھی تو نہیں ہوا۔۔‘ہم منمنائے۔۔
‘کیا تم نے پیٹ میں جھانک کر دیکھا ہے۔۔یا اینڈ واسکوپی کروائی ہے؟‘
‘‘نہیں‘وہ تو نہیں کروائی۔۔‘‘
‘‘ایسڈیٹی تو ضرور ہوتی ہو گی۔۔‘‘
‘‘ہاں‘ وہ تو ہوتی ہے۔‘‘
‘‘بس السر کی شروعات ہی سمجھو۔۔میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر لوگ کھانا کیوں کھاتے ہیں۔۔زندہ رہنے کے لیے چند لقمے کافی ہیں۔۔آخر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگ چند کھجوریں اور ستو کھا کر زندہ رہتے تھے یا نہیں۔۔بلکہ بڑے بڑے جہاد بھی کیے تھے۔۔حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے در خیبر اکھاڑ ڈالا تھا۔۔تم لوگ اتنا کھاتے ہو مگر ایک کیل نہیں اکھاڑ سکتے۔۔‘
‘‘اگر سب صحت مند رہنے لگے تو آپ کیا مکھیاں ماریں گی یا بھاڑ جھونکیں گی۔۔‘ہم چمک کر بولے۔۔
؛؛آپ کو پتا ہے نا‘وہ طبیب پھر مدینے سے واپس چلا گیا تھا کہ یہاں تو کوئی بیمار ہی نہیں ہوتا۔۔میں رہ کر کیا کروں گا۔۔آپ لوگوں کو تو ہمارا احسان مند ہونا چاہیے۔۔‘‘
‘‘آپ اپنے احسان کا ٹوکرا اپنے پاس ہی رکھیں۔۔غذا میں جتنی ملاوٹ ہے۔۔فضا میں جتنی آلودگی ہے‘پانی جتنا خراب ہے‘ہمارا کام چلتا رہے گا۔۔تم بے فکر رہو۔۔‘‘
جیسے ہی میں گھر میں داخل ہوتی ہوں وہ ہمیں اس بری طرح گھورتی ہیں جیسے ہم کوئی مجرم ہیں۔۔ہم گڑبڑا کر رہ جاتے ہیں۔۔‘‘یہ تمہارے منہ پر بارہ کیوں بج رہے ہیں؟‘‘
‘‘ہمارے منہ پر‘‘ہم جلدی سے منہ پر ہاتھ پھیرتے ہیں جیسے ہمارا منہ نہ ہو کسی گھڑی کا ڈائل ہو۔۔
‘‘ضرور کوئی بد پرہیزی کی ہے۔۔آنکھیں سوجی سوجی لگ رہی ہیں۔۔چیرے پر زردی کھنڈی ہوئی ہے۔۔منہ خشک کیوں ہو رہا ہے؟۔۔‘‘
‘‘تمہیں دیکھ کر ہو گیا ہو گا۔۔‘‘
‘‘کیوں میں کوئی چڑیل ہوں یا پچھل پیری۔۔یہ تمہارا وزن بھی کچھ بڑھا ہوا لگ رہا ہے۔۔‘‘
‘‘کل سے آج تک میں کتنا بڑھ سکتا ہے۔۔کل ہی تو تم سے ملاقات ہوئی تھی۔۔‘‘
‘‘کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔۔اگل دو جلدی سے۔۔‘‘
کل رات کھانا نہیں کھایا تھا۔۔شاید اس کا اثر ہو۔۔ہم ذرا کھانس کر بولے۔۔
‘‘پھر تو تمہیں بہت اچھا ہونا چاہیے تھا۔۔یہ کھانس کیوں رہی ہو۔۔‘‘
‘‘کیا کھانسنے پر پابندی ہے؟۔۔ آخر کبھی کبھار کھانسی آ ہی جاتی ہے۔۔‘
‘‘یا تو الرجی ہے۔۔‘‘انہوں نے اپنا پرس ٹٹولنا شروع کیا اور الرجی کی گولی نکالی۔۔
‘‘ورنہ۔۔۔؟؟ ہم نے پوچھا۔۔
‘‘ورنہ پھر کچھ بھی ہو سکتا ہے۔۔انفلوئزا‘بران کائٹس‘نمونیہ‘ اور ٹی بی کی پہلی اسٹیج۔۔‘‘ہم نے جلدی سے گولی ان سے لے کر نگل لی۔۔ان کی طرف سے ہر وقت دواؤں کے تحفے ملتے رہتے تھے۔۔ساری سیمپل کی دوائیں وہ ریوڑیوں کی طرح بانٹتی تھیں۔۔ہم کبھی احتجاج کرتے کہ یہ تو ایکسپائر ہو گئی ہیں۔۔تو بڑے مزے سے کہتیں۔۔‘‘انسان ایکسپائر ہو سکتے ہیں دوائیں نہیں۔۔بس ذرا پوٹینسی کم ہو جاتی ہے تم کھا کر دیکھو۔۔آرام نہ آئے تو ہمارا نام بدل دینا۔۔‘‘
‘‘اگر تمہیں اپنا نام پسند نہیں تو میں ویسے ہی بدل دیتی ہوں۔۔ضروری ہے کہ مجھے اپنی دواؤں کی بھینٹ چڑھا کر یہ کارخیر سر انجام دیا جائے۔۔‘‘
بہرحال یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے نہ ہم نے اپنی خو بدلی نہ انہوں نے اپنی وضع۔۔

××××××××
ایک اور ہماری دوست ہیں۔۔اللہ انہیں خوش رکھے۔۔دنیا کا معاملہ ہو یا دین کا؛زندگی کا ہو یا موت کا۔۔ان کی پٹاری میں سے مشوروں کا ریڈی میڈ پیکج مل جائے گا۔۔ہم ان کی پیٹھ پیچھے ان کو مس نو آل کہتے ہیں ۔۔سیاست‘ تجارت‘ معاشرت‘ معشیت‘ اقتصادیت‘ ادبیات اور بھی جو جو‘‘آت‘ ہیں۔۔ان سب میں ان کا دخل در معقولات جاری رہتا ہے۔۔ہر بیماری کے لیے گھریلو چٹکلے‘حکیمی نسخے ان کو ازبر تھے۔۔کوئی پوچھے نہ پوچھے ان کی آڈیو کیسٹ ہو وقت چالو رہتی تھی۔۔اس عادت کی وجہ سے کئی بار مشکلات میں پھنس چکی تھیں۔۔
ایک بار کسی کو قبض ہو گیا تو محترمہ نے جمال گوٹہ کھانے کا مشورہ دے دیا۔۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ محترمہ مرتے مرتے بچیں۔۔کسی کو بال بڑھانے کا ایسا مشورہ دیا کہ بچے کچھے بال بھی اللہ کو پیارے ہو گئے اور وہ اچھی خاصی گنجی کبوتری بنی پھرتی رہیں اور موصوفہ کے لتے لیتی رہیں۔۔کسی بچی کو مہاسوں کا ایسا نسخہ بتایا کہ سارا چہرہ بھر گیا۔۔آخر اسکن اسپیشلسٹ کے پاس جانا پڑا۔۔مگر کیا مجال کہ ان پر اثر ہوا ہو۔۔انہوں نے مشورے دینے بند نہ کیے۔۔
ایک روز ہمارے ہاں تشریف لائیں۔۔پوچھنے لگیں۔۔‘‘تمہیں ورزش کے فوائد پتا ہیں۔۔؟‘‘
‘جی پتا نہیں۔۔‘
‘لگتا تو نہیں‘
‘‘وہ کیسے‘؟‘‘
‘‘کبھی ورزش کرتے دیکھا تو نہیں۔۔‘‘
‘‘میرا گھر کوئی جم تو نہیں ہے۔۔جہاں میں چوبیس گھنٹے ورزش کرتی نظر آؤں۔۔یا پھر جیسے ہی کوئی ملنے آئے‘میں سب کام چھوڑ کر ورزش شروع کر دوں۔۔‘‘
‘‘بھئی‘جو لوگ ورزش کرتے ہیں‘وہ بڑے چست و چالاک ہوتے ہیں۔۔اب تم نہ تو چست ہو نہ اسمارٹ البتہ چالاک ضرور ہو۔۔‘‘
‘‘ہم نے آپ کے ساتھ کیا چالاکی کی ہے؟‘‘ہم ذرا روہانسے ہو گئے۔۔
‘‘چالاک ہی تو ہو۔۔کبھی جو تم نے اپنے پروں پر پانی پڑنے دیا ہو۔۔‘‘
‘‘نا ہم کوئی بطخ ہیں یا کبوتری جس کے پر ہوتے ہیں؟۔۔‘‘
مطلب یہ کہ ہم نے تم کو ہمیشہ ایسے ایسے مشورے دیے جو کہ سونے کے پانی سے لکھے جاتے تو کم تھا۔۔تم نے ہاں میں ہاں تو ملائی‘مگر عمل کھبی نہ کیا۔۔بھینس کے آگے بین بجانا اپنے ہی پران کھونا ہے۔۔‘‘
‘‘یہ تم بار بار ہماری توہین کر رہی ہو۔۔کھبی تمہیں پر نظر آتے ہیں اور اب تم نے ہمیں بھینس بنا دیا۔۔کیا چڑیا گھر کا چکر لگا کر آئی ہو۔۔‘‘
‘‘دنیا ہی پوری چڑیا گھر ہے۔۔کہیں اور جانے کی کیا ضرورت ہے۔۔اپنے اردگرد غور سے دیکھو۔۔امن پسند فاختائیں‘کچر کچر کرتی کویاں‘دم کٹی لومڑیاں دھاڑتی شیرنیاں‘کالی کوئلیں‘رنگ بدلتی گرگٹیں‘‘طوطا چشم طوطیاں نطر آ جائیں گی۔۔‘‘
‘‘ان میں سے ہم کون ہیں اور آپ کون؟‘‘
وہ ہنس کر بولیں۔۔‘‘میں شاید سیانی کوی اور تم بگلا بھگت کہلائی جا سکتی ہو۔۔اچھا چھوڑو۔۔یہ تو سب مذاق کی باتیں ہیں۔۔اب میں تمہیں ورزش کے بارے میں بتانے والی ہوں‘اگر تم میری باتوں پر عمل کرو گی تو سترہ برس کی چھوکری لگنے لگو گی۔۔‘‘
‘‘ہمارے سترہ برس کے لگنے سے ہمیں یا کسی کو کیا فائدہ ہو گا۔۔ہمیں اپنا بر دکھوا تو کرانا نہیں ہے۔۔‘‘
‘‘بر دکھوا اب کیا ہو گا۔۔اب تو بری دکھوے کا وقت آرہا ہے۔۔خیر سے تمہارے بروے(بچے) بڑے ہو رہے ہیں۔۔ان کی بری تیار کرو گی یا نہیں؟۔۔دیکھو میرے مشورے کے بغیر کچھ نہ کرنا۔۔اچھا اب غور سے سنو کہ ورزش کیسے کرنی ہے۔۔‘‘
‘‘میرے پاس ان چونچلوں کے لیے وقت کہاں ہے تم اپنے مشورے اپنے پاس ہی رکھو۔۔‘‘
‘‘بھئی اس میں کون سے ہاتھی گھوڑے جوتنے ہیں‘مثلاً تم کتاب پڑھ رہی ہو‘ تو پڑھتی رہو۔۔کس نے روکا ہے۔۔‘‘وہ فوراً صوفے پر لیٹ گئیں۔۔اور ہوا میں سائیکل چلانے لگیں۔۔‘‘اس طرح سائیکل چلاتی رہو۔۔‘‘
دو ایک دولتیاں ہمارے پہلو میں آ لگیں۔۔ہم ذرا پرے ہٹ کر بیٹھ گئے۔۔پھر وہ کروٹ کے بل لیٹ گئیں۔۔
‘‘رسالہ پڑھتی رہو اور ٹانگ چلاتی رہو۔۔‘‘
‘‘لوگ ہمیں پاگل سمجھیں گے کہ لیٹی ٹانگیں چلا رہی ہے۔۔‘‘
‘‘یہ لوگ کہاں سے آن دھمکے۔۔ہم تمہیں کسی اجتماع عام میں تو ٹانگیں ہلانے کو نہیں کہہ رہے‘ یہ کام تو اپنے بیڈ روم میں کیے جاتے ہیں۔۔یا ٹی وی لاؤنج میں۔۔‘‘
پھر انہوں نے مچل مچل کر انگڑائیاں لینا شروع کر دیں۔۔‘‘اس طرح اپنے جسم کو اسٹریچ کرو۔۔‘‘
وہ اپنے بازو سر کے پیچھے لے گیئں اور پاؤں ہماری گود میں آ گئے۔۔صوفہ ان کے مچلنے کی تاب نہ لا سکا۔۔یا ان کی جولانیاں کے لیے جگہ تنگ پڑ گئی اور وہ لڑھک کر زمین پر آ پڑیں۔۔وہ اپنے شانے دبا رہی تھیں۔۔
ہم نے تسلی دی۔۔
گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں
وہ طفل کیا گریں گے جو گھٹنوں کے بل چلیں
‘‘چوٹ تو نہیں لگی؟‘‘
‘‘نہیں‘بڑے دنوں بعد ورزش کی ہے نا تو بس ذرا کندھے میں جھٹکا آ گیا ہے۔۔‘‘
‘‘نصیب دشمناں کوئی ٹینڈن وغیرہ تو نہیں ٹوٹ گیا۔۔‘‘
‘‘ارے نہیں‘ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔‘‘
‘‘آپ جیسے شہوار اگر گر سکتے ہیں تو ہمارے جیسے طفل مکتب کا کیا ہو گا۔۔پہلے بھی ایک دفعہ ہم تین سیڑھیوں سے گر کر پاؤں فریکچر کروا چکے ہیں۔۔اب کے کسی بازو یا ٹانگ کی شامت نہ آ جائے۔۔‘‘
تھوڑی دیر بعد وہ کھڑی ہو گئیں۔۔‘‘لو اب اپنے دونوں بازو پھیلاؤ کسی پرندے کی طرح۔۔پھر انہیں پیچھے لے جاؤ۔۔جتنا لے جا سکتی ہو۔۔‘‘
انہوں نے کر کے دکھایا لیکن بازو پیچھے ہی رہ گئے۔۔
‘‘بازو پیچھے رکھ کر کتنی دیر کھڑے رہنا ہوتا ہے؟۔۔‘‘
‘‘پتا نہیں بازوؤں کو کیا ہو گیا۔۔ذرا تم مدد کرو۔۔‘‘

ہم نے کھینچ تان کر ان کے بازو صیح جگہ فٹ کیے۔۔
کچھ دیر دبایا۔۔انہوں نے پھر کمر ہمت کس لی۔۔
اور دونوں بازو لپیٹ کر اوپر کی طرف کھینچے۔۔اور اس کے بعد یکلخت زمین پر لیٹ کر لوٹنیاں کھانی شروع کر دیں۔۔جیسے قوالی سن کر حال پڑ گیا ہو۔۔
ہماری بہن نے جھانک کر دیکھا اور سہم کر پیچھے ہٹ گئی اور دروازہ کھٹکھٹایا ہم نے دروازہ کھولا۔۔‘‘یہ فریدہ کو کیا ہوا۔۔کیا مرگی کا دورہ پڑ گیا ہے۔۔یا تم نے کوئی ایسا شعر سنا دیا ہے‘جو اس کو حال آ گیا۔۔‘‘
‘‘ہشت! ایسی کوئی بات نہیں ورزش کر رہی ہے‘بلکہ مجھے سکھا رہی ہے۔۔تم بھی اندر آ جاؤ۔۔شاید پریکٹیکل مظاہرے سے تمہیں بھی کچھ مفید ٹپس مل جائیں۔۔‘‘
فریدہ کے سلیقے سے استری شدہ کپڑے چر مر ہو گئے تھے۔۔چوڑیاں ٹوٹ گئی تھیں۔۔کلائیوں سے خون رس رہا تھا۔۔منہ لال چقندر ہو گیا تھا۔۔چٹیا میں سے بال نکل کر سنپولیوں کی طرح لہرا رہے تھے۔۔
‘‘اچھی خاصی خونی ورزش ہے۔۔‘‘بہن صاحبہ بولیں۔۔بہرحال ہم دونوں نے ان کو بڑی احتیاط سے اٹھایا۔۔زخموں پر اسپرٹ لگا کر پھونکیں ماریں۔۔
‘‘ورزش کرتے ہوئے کانچ کی چوڑیاں ہرگز مت پہننا‘میں تم سے ملنے آئی تھی۔۔ورزش کرنے تھوڑی آئی تھی۔۔بہرحال یہ ورزش کولہوں کو کم کرنے کے لیے ہے۔۔‘‘
کچھ دیر سانس لیا اور پھر اٹھ کر خیالی رسی کودنے لگیں۔۔
‘‘فریدہ! کیوں اپنی جان کی دشمن ہوئی ہو۔۔یہ عمر ہے رسی کودنے کی؟۔۔‘‘
‘‘کیوں ہماری عمر کو کیا ہوا ہے۔۔میں کوئی اسی برس کی کھوسٹ ہوں‘جس کے پیر قبر میں لٹکے ہوں۔۔ویسے بھی دل جوان ہونا چاہیے۔۔‘‘
‘‘دل تو جوان ہو گا مگر اعضاء بے چارے بوڑھے ہو رہے ہیں۔۔‘‘
وہ رک گئیں اور انہوں نے فوراً جھک کر زمین کو چھونے کی کوشش کی۔۔‘‘تم دونوں بھی ذرا زمین کو چھو کر دکھاؤ۔۔ورزش کو کے دیکھو‘کیسی لچک پیدا ہو گئی ہے۔۔‘‘
ہم دونوں کے ہاتھ تو زمین سے فٹ بھر اونچے رہ گئے۔۔انہوں نے ہم پر رعب جمانے کے لیے جو زمین چھونی چاہی تو پھر وہ رکوع کی حالت میں ہی رہ گئیں۔۔
‘‘لگتا ہے ہماری چک نکل آئی۔۔ذرا سیدھا تو کرو ہمیں۔۔‘‘
بہرحال کسی طرح ان کو سیدھا تو کر لیا گیا۔۔مگر وہ کمر پکڑ کر ہی بیٹھی رہیں۔۔چائے کے ساتھ دو گولیاں پین کلر کی کھا کر وہ روانہ ہوئیں۔۔سنا ہے کافی دن تک بے چاری خستہ حال کمر دکھتی رہی۔۔
×××××××××
ایک روز ایک خاتون ہم سے ملنے آئیں۔۔پہلی ملاقات تھی۔۔سو بہت سے گلے لگا کر اپنے پاس بٹھایا۔۔
‘‘فرمائیے کیسے آنا ہوا؟‘‘ ہم نے نرمی سے پوچھا۔۔
‘‘آپ سے ایک مشورہ کرنا تھا۔۔آپ کے بارے میں بہت سنا ہے۔۔۔۔شاید میری مشکل کا کوئی حل آپ بتا سکیں۔۔‘‘
اس کے بعد تو وہ یوں شروع ہوئیں جیسے راگ سے بھرا باجا بجنے لگے۔۔سر تال کے ساتھ بھاؤ یعنی اشارے بھی شروع ہو گئے۔۔وہ اپنے شوہر کے مظالم کی داستان سنا رہی تھیں۔۔جب زیادہ جوش آتا تو اچھی خاصی ایگریسو ہو جاتیں۔۔
‘‘اور پھر ظالم نے میری چوٹی پکڑ کر مروڑنی شروع کر دی۔۔‘‘
انہوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ ہماری دبلی پتلی نازک سی چٹیا کو پکڑ کر مروڑنا شروع کر دیا۔۔ہماری دل فگار چیخ بلند ہوئی۔۔
‘‘سوری جی‘بس ذرا جذباتی ہو گئی تھی۔۔معاف کیجئے گا۔۔‘‘
نے اپنی مظلوم چٹیا کو دوپٹے کے اندر چھپا کر دوپٹے کو اپنے سر پر خوب اچھی طرح مڑھ لیا۔۔کیا خبر ان کے شوہر آکے چل کر پھر اس قبیح حرکت کا اعادہ فرماتے اور ہماری چوٹی ان کے جزباتی شکنجے میں جکڑی جاتی۔۔
؛؛ہنڈیا میں نمک ذرا تیز ہو گیا۔۔آخر ہو ہی جاتا ہے کبھی کبھار‘مگر اس مائی کے لال نے ڈونگا اٹھایا اور زمین پر دے پٹخا۔۔‘‘
انہوں نے ہمارے ہاتھ سے چائے کا مگ کھسوٹا اور اسے زمین پر دے مارا۔۔ہم حیرت سے آنکھیں پھاڑے فرش پر بدنصیب جگ کی بکھری کرچیاں اور چائے دیکھ رہے تھے۔۔شکر ہے ہماری الرجی کی وجہ سے قالین اٹھا لیے گئے تھے۔۔
‘‘ایک بار پھر سوری۔۔یقین مانیں میں اچھی بھلی تھی مگر اس اللہ کے بندے نے تو میرا دماغ خراب کر کے رکھ دیا ہے۔۔لگتا ہے مجھے پاگل خانے پہنچا کر ہی دم لے گا۔۔‘‘
‘‘مجھے بھی ایسا ہی لگ رہا ہے۔۔‘‘ہم نے معصومیت سے کہا۔۔
‘‘لگ رہا ہے نا؟‘‘وہ خوش ہو کو بولیں۔۔ہم کھسک کر ان سے ذرا دور ہو گئے۔۔
‘‘مگر انہوں نے اب تک ایسا کیا نہیں۔۔‘‘ہم بولے۔۔
وہ پھر کھسک کر ہم سے قریب ہو گئیں۔۔‘‘ان سے کچھ بھی بعید نہیں‘ہو سکتا ہے ہماری اگلی ملاقات کسی پاگل خانے میں ہی ہو۔۔یا پھر ڈاکٹر مبشر حسن کے کلینک میں۔۔‘‘
‘‘اللہ سے خیر مانگیں۔۔اب اتنا بھی مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔۔‘‘کھسک کھسک کر ہم صوفے کی ہتھی سے جا ٹکے تھے۔۔
‘‘بس جی جیسے ہی وہ گھر میں قدم رکھتے ہیں تو ہر چھوٹے بڑے کی شامت آ جاتی ہے۔۔بچے بے چارے کونوں کھدروں میں چھپنے لگتے ہیں۔۔‘‘
انہوں نےہماری پیٹھ کو کونا کھدرا سمجھ کر بچوں کی طرح اس کے پیچھے چھپنے کی کوشش میں ہمیں اچھا خاصا گدگدا کر رکھ دیا۔۔‘‘گھر والے تو گھر والے گھر کی چیزیں بھی ان کی زد سے بچ نہیں سکتیں۔۔‘‘
‘‘ان کا تعلق کہیں ہلاکو خان کے خاندان سے تو نہیں؟‘‘ ہم نے پوچھا۔۔
‘‘ہو سکتا ہے‘بلکل ہو سکتا ہے۔۔اس لیے کہ سارا خاندان ہی نور علی انور ہے۔۔اللہ بخشے برسوں ان کی والدہ محترمہ ہمارے سینے پر مونگ دلتی رہیں۔۔پھر یہ فریضہ ہماری نندوں کو سونپ کر دنیا سے تشریف لے گئیں۔۔اور شوہر تو ہیں ہی قابوس کی طرح سر پر سوار اری او پھوہڑ عورت تجھے کشن رکھنے کا سلیقہ بھی نہیں۔۔‘‘انہوں نے ہمارے کشن اٹھا کر زمین پر پٹخ دیے۔۔ہم ان کے اس بے تکلفانہ تخاطب پر ملول سے ہو گئے۔۔
‘‘مانا کہ آپ کے دماغ میں خلل واقع ہو چکا ہے پھر بھی پہلی ملاقات میں آپ کا ہمیں اس طرح منہ پھاڑ کر پھوہڑ کہنا کچھ جچا نہیں۔۔‘‘
‘‘سوری جی سوری۔۔میں آپ کو یقین سے کہہ رہی ہوں توبہ استغفراللہ!‘‘ انہوں نے مارے گھبراہٹ کے بجائے اپنے‘ ہمارے کان چھوئے اور اپنے سر کی بجائے دو ہتڑ ہمارے سر پر دے مارا۔۔‘‘میں تو اپنے شوہر کی بات دہرا رہی تھی۔۔بس گھر میں داخل ہوتے ہی شروع ہو جاتے ہیں۔۔کام کی نہ کاج کی ڈھائی سیر اناج کی۔۔مجال ہے جو کوئی چیز ٹھکانے پر مل جائے۔۔جوتے ہیں تو دروازے کے سامنے ڈھیر ہیں تا کہ میرا پاؤں رپٹے اور ٹانگ تڑوا کر بیٹھ جاؤں۔۔آپ خود سوچیں کون اتنا بے وقوف ہوگا جو ایسے ہلاکوخان کو اپنے سر پر چوبیس گھنٹے مسلط کرنے کا سوچے گا اور اپنا دن کا چین بھی حرام کرے گا بہرحال میں نے ان سے بصد ادب پوچھا کہ آخر پھر یہ جوتے کہاں رکھوں تو بولے میرے سر پر۔۔میں نے کہا اتنے سارے جوتے‘اتنے منے سے سر پر کیسے سمائے گے۔۔‘‘میں نے اپنی طرف سے ہلکا پھلکا مذاق کرنے کی کوشش ناتمام کی تھی۔۔مگر بھینس کے آگے بین بجانے کا کیا فائدہ۔۔
ہم نے ڈرتے ڈرتے کہا۔۔‘‘بھئی مرد کو بھینس کہنا اس کی اچھی خاصی توہین ہے۔۔بھینسا ہونا چاہیے تھا۔۔‘‘
لیجئے۔۔آپ بھی مذاق کرنے لگیں۔۔میرے تو وہ شوہر ہیں اب ہزار ان کا رنگ سانولا ہو میں ان کے حضور ایسا لفظ کہہ کر گستاخی کی مرتکب تو نہیں ہو سکتی نا۔۔خیر تو میں بتا رہی تھی کہ جیسے ہی میرے منہ سے یہ بے ضرر سا جملہ ادا ہوا وہ آپے سے باہر ہو گئے اور تو تڑاخ پر اتر آئے۔۔گلا پھاڑ کر چلائے۔۔‘‘اچھا تو تو میرا مذاق اڑا رہی تھی مجھے دالہ شاہ کا چوہا بنا رہی تھی‘تو اپنے آپ کو کیا سمجھتی ہے۔۔یہ جو مٹکے جیسا سر ہے نہ تیرا اس میں مغز ایک چھٹنکی بھر بھی نہیں ہے۔۔اور پھر تیری یہ مجال کہ تو اتنے سارے جوتے میرے سر پر سجائے۔۔‘‘اور پھر جناب ایک دھپ انہوں نے میری کمر پر ٹکا دی۔۔اور ساتھ ہی خاتون محترم نے ایک دھپ ہماری ناچیز کمر پر بھی جما دی۔۔
‘‘اب آپ یہ بتائیے کہ کیا اسلام میں بیویوں کو مارنا جائز ہے؟
اور کیا اپنے بارتے خان شوہر کے ساتھ زندگی گزاری جا سکتی ہے۔۔بولیے جواب دیجئے؟۔۔‘‘
وہ یوں تحکم سے ہم سے پوچھ رہی تھیں گویا ان کے شوہر ہمارے ہی مشورے سے ان کے ساتھ یہ بدسلوکی کرتے ہیں۔۔ہم اپنی کمر سہلاتے ہوئے بولے۔۔
‘‘دیکھئے محترمہ! ہم کوئی مفتیہ تو نہیں ہیں جو کوئی فتوی پیش کر دیں مگر بات یہ ہے کہ آخر آپ نے اپنے بچوں کو یہ کیوں نہیں سکھایا کہ جوتے راستے میں اتارنے کے بجائے دیوار کے ساتھ سلیقے سے لگا دیں۔۔‘‘
‘‘ویسے یہ بچے کس کے ہیں۔۔‘‘انہوں نے ہم سے پوچھا۔۔
‘‘بخدا ہمیں نہیں پتا کہ کس کے ہیں؟؟یہ تو آپ کو پتا ہو گا۔۔بہرحال محلے والوں کے تو ہر گز نہیں ہوں گے۔۔‘‘
‘‘یہ بچے ان ہی حضرت کے ہیں تو پھر جب وہ کچھ نہ سیکھ سکے تو یہ بھلا خاک سیکھیں گے اور پھر اتنی بڑی دیوار کہاں سے لاؤں‘آپ خود انصاف کریں آٹھ بچوں کے سولہ جوتے اور اگر ہمیں بھی شامل کر لیں تو چار مزید ہو گئے۔۔جوتے بھی کوئی معقول ہوں تو پھر بھی خیر ہے۔۔مگر یہ جوتے تو جوتوں کے بھی دادا جان ہیں۔۔دو دو من کا ایک جوگر ہے۔۔‘‘
‘‘واقعی اگر بچے کم ہوتے تو جوتے بھی کم ہوتے۔۔جوتے کم خوشحال گھرانہ‘مگر یہ تو آپ کا نجی معاملہ ہے۔۔اس میں اب ہم کیا عرض کریں۔۔‘‘
‘‘کیا کہا نجی یعنی پرائیویٹ معاملہ۔۔‘‘وہ چمک کر بولیں۔۔‘‘کیا وہ دنیا والوں سے چھپ کر مجھے بند کمرے میں مارتے ہیں۔۔خالہ جی!یہ سب پبلک میں ہوتا ہے‘برسرعام۔۔سمجھیں آپ۔۔‘‘
ہم نے اپنے سے چند سال بڑی خاتون کو بغور دیکھا۔۔ابھی ہم خالہ جی کے خطاب پر غور کر ہی رہے تھے کہ انہوں نے ہاتھ لہرایا جو سیدھا ہماری ناک سے ٹکرایا اور عینک بے چاری ان کی آستین کی جھالر میں پھنس کر جھولنے لگی۔۔وہ سب کچھ بھول بھال کر ہمیں دیکھنے لگیں۔۔
‘‘یہ آپ کی صورت کو کیا ہوا۔۔کیسی بدلی بدلی لگ رہی ہے۔۔آخر ماجرہ کیا ہے؟‘‘
‘‘ماجرہ ہماری عینک ہے۔۔ذرا ڈھونڈ کر تو دیں۔۔جانے کہاں چلی گئی۔۔‘‘
‘‘چلی گئی ہے سے کیا مراد ہے آپ کی۔۔کیا اس کے پاؤں ہیں جو وہ آپ کی ناک پر سے کود کر کہیں چلی گئی۔۔ایک بات کہوں اگر آپ برا نہ مانیں تو۔۔عینک کے بغیر آپ ہمارے شوہر کی طرح اچھی خاصی جلاد نظر آرہی ہیں۔۔ان ہی کی طرح بڑی بڑی پھٹی پھٹی سی آنکھیں۔۔‘‘
ان کی اس صاف گوئی پر ہمارا جی جل کے خاک ہو گیا۔۔اب ہماری سمجھ میں آیا کہ ان کے مار کھانے کی ایک وجہ ان کی حس مزاح کے ساتھ ساتھ ان کی بے رحم صاف گوئی بھی ہے۔۔کیونکہ ہمارا دل چاہ رہا تھا کہ موصوفہ کی خبر لی جائے‘وہ پھر بولیں۔۔
‘‘اس ناہجار عینک کے پر ور تھے کیا‘جو یہ آپ کے چہرہ مبارک سے فلائی کر گئی۔۔بھئی عینک ہے یا چڑیا۔۔‘‘
ہم آنکھیں پٹپٹا کر دھندلے سے ماحول کا جائزہ لے رہے تھے کہ انہوں نے ہمارے زانو پر ایک زور دار ہاتھ مارا۔۔
‘‘اے لو! یہ تو ہماری آستین کے ساتھ جھول رہی ہے۔۔کیا کمال عینک ہے۔۔جانے کس وقت اڑ کر چمگادڑ کی طرح میری آستین پہ آ لٹکی۔۔‘‘
ہم نے اللہ کا شکر ادا کیا۔۔ان کی آستین سے عینک چھڑائی۔۔پھر سے اپنی آنکھوں پر جمائی۔۔
‘‘ہاں تو کیا مشورہ ہے آپ کا؟‘‘
‘‘کیا مشورہ دیں۔۔آپ تو خود ماشااللہ اتنی سیانی ہیں۔۔ہم تو یہی کہہ سکتے ہیں کہ آپ کے شوہر کا موڈ مارنے کا ہو تو ان کی نظروں سے اوجھل ہو جایا کریں۔۔‘‘
‘‘کیا مشورہ دیا ہے جناب نے۔۔کیا وہ مارنے سے پہلے لنگر کسوٹ کر میدان میں اتریں گے یا ڈھول بجھا کر اعلان کریں گے کہ آج میرا مارنے کا موڈ ہے۔۔اور پھر میں کس طرح نظروں سے اوجھل ہو جایا کروں۔۔کوئی سلیمانی ٹوپی ہے میرے پاس۔۔یا پھر میں کوئی چڑیا ہوں کہ روشندان میں جا بیٹھوں۔۔چمگادڑ ہوں کہ چھت سے لٹک جایا کروں۔۔بڑی شہرت سن کر آئی تھی۔۔سچ کہتے ہیں میرے میاں کہ عورت تو ہوتی ہی ناقص العقل ہے۔۔‘‘
‘‘میرے خیال میں آپ اپنے کامل العقل شوہر سے ہی مشورہ کر لیں تو اچھا ہے کیونکہ میں ناقص العقل ہوں آپ فاتر العقل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس سے پہلے میں جملہ مکمل کرتی وہ نو دو گیارہ ہو گئیں۔۔۔

×××××××

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے