ایسے بنیاد ہلاتے ہیں مرے شہر کے لوگ

ایسے بنیاد ہلاتے ہیں مرے شہر کے لوگ
جڑ میں تیزاب گراتے ہیں مرے شہر کے لوگ

میں تو یہ دردِ نمک پاشی نہیں جھیل سکا
زہر زخموں پہ لگاتے ہیں مرے شہر کے لوگ

جھوٹی باتوں پہ یہ قرآن اٹھا لیتے ہیں
دن بھی جھوٹوں کا مناتے ہیں مرے شہر کے لوگ

دولتِ سود سے لاتے ہیں حلالی چیزیں
اور حدیثیں بھی سناتے ہیں مرے شہر کے لوگ

ہندو اک لاش جلاتے ہیں تو حیرت کیسی
مجھ کو زندہ ہی جلاتے ہیں مرے شہر کے لوگ

احمد آشنا ؔ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے