عین ممکن هے کوئی مجھ سا ہی پیاسا لا دے

عین ممکن هے کوئی مجھ سا ہی پیاسا لا دے
اپنی اس اوک میں بھر کر تجھے دریا لادے
کتنی وحشت هے میری ہجرزده آنکھوں میں
نیند،اب تو ہی کوئی خواب سہانا لا دے
کس میں ہمت هے سدا پشت په باندھے اسکو
عمر بھر کون تیرے پیار کا وعده لا دے
زندگی تیرے حوادث سے بہت عاجز هوں
سانس لینی هے مجھے چین کا لمحه لا دے
روز کہتا تھا فرح توڑ کے تارے لادوں ؟
آج میں نے بھی کہا هے اسے،اچھا،لا دے
سیدہ فرح شاہ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے