ایک صدمہ سا ہوا اشک جو اس بار گرے

ایک صدمہ سا ہوا اشک جو اس بار گرے
گھر کے آنسو تھے مگر بر سر بازار گرے
ہم ہی آہوں سے نہیں ہار کے ناچار گرے
آندھیاں جب بھی چلی ہیں کئ اشجار گرے
پھر وہی خواب ، وہی طوفاں وہی دو آوازیں
جیسے در پہلے گرے بعد میں دیوار گرے
ایسی آواز سے دل ٹوٹ کے سینے میں گرا
جیسے منجدھار میں بھونچال سے کہسار گرے
جیسے نوبت ہی معالج کی نہیں آۓ کوئ
جیسے رستے میں ہی دم توڑ کے بیمار گرے
صرف میں نے ہی تو گجرے نہیں بھیجےاس کو
میرے آنگن میں بھی پھولوں کے کئ ہار گرے
ایک تم ہی نہیں پھسلے ہو یہاں آ کے عدیم
بارش زر میں کئ صاحب کردار گرے
دھوپ بارش میں اچانک جو نکل آئ عدیم
زیر اشجار کئ سایہ ء اشجار گرے
عدیم ہاشمی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے