ایک مرتے ہوئے آدمی کے لیے نظم [مرزا کے نام]

یہ جو تم سانسیں رواں رکھنے کی کوشش کر رہے ہو
کس لیے ہے؟
اور تمھارے ہاتھ میں یہ ٹہنیاں پھولوں کی
سرنیوڑہائے کس کو دیکھتی ہیں
یہ تمھاری چشمِ نم آلود میں
کس خواب کے ریزے ہیں جو پلکوں
تک آ آ کر پلٹتے ہیں، پگھلتے اور
بہتے کیوں نہیں ہیں!
اِک ذرا سینے پہ رکھی درد کی سِ ل ہاتھ سے سرکاکے دیکھو
سنسناتے ،یخ اندھیرے میں یہ اتنی ڈھیر ساری
چیونٹیاں کیوں چل رہی ہیں
کون ہے وہ!
کس کے کہنے پر تمھارے سینۂ خالی کی
محرابوں سے یہ لشکر چمٹتا جا رہا ہے!
اور تمھارے لشکر و طبل و علَم
کیوں سرنگوں ہیں، تم شکستِ ذات کے کن مرحلوں میں ہو،اِ دھر دیکھو، تمھارے ہونٹ اتنے
سرد کیوں ہونے لگے ہیں!
کیوں رگوں میں دوڑتی پھرتی
لہو کی ندیاں جمنے لگی ہیں!
موسمِ گل پر اچانک برف باری کا سبب کیا ہے!
کہو!کچھ تو کہو وہ کون ہے
کس سے تمھاری دشمنی ہے
کس نے پل بھر میں تمھارے جسم و جاں میں
موت بھر دی ہے، تمھیں معلوم ہے
اُس حسن زادی کا کوئی نام و پتا معلوم ہے
کچھ تو کہو بھائی کہو، کچھ تو کہو نا!
میرے بھائی!
اب تمھیں مرنے سے تو شاید بچایا جا نہیں سکتا
مگر آنکھیں کھلی رکھنا کہ میں اُس حسن زادی (ذات کی صحباں) کا عکس مطمئن اِ ن بے صدا
آنکھوں میں پڑھنا چاہتا ہوں
ایوب خاور 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے