ایک ڈھونڈو ہزار بیٹھے ہیں

Aik dhundho hazaar baithe hain
Log to beshumaar baithe hain
ایک ڈھونڈو ہزار بیٹھے ہیں
لوگ تو بے شمار بیٹھے ہیں
Ham sitaron ko dekhnay k liey
Apni ankhen utaar baithe haen
ہم ستاروں کو دیکھنے کے لیے
اپنی آنکھیں اتار بیٹھے ہیں
Asmano pay kijiey parwaz
Jab talak khaaksaar baithe hain
آسمانوں پہ کیجئیے پرواز
جب تلک خاکسار بیٹھے ہیں
Vo bhi maayus ho chuka khud se
Hum bhi umeed haar baithe hain
وہ بھی مایوس ہو چکا خود سے
ہم بھی امید ہار بیٹھے ہیں
Jis ko kehtay haen zindagi jyoti
Rafta rafta guzar baithe haen
جس کو کہتے ہیں زندگی جیوتی
رفتہ رفتہ گزار بیٹھے ہیں
جیوتی آزاد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے