اک چٹائی ہے ،مصّلیٰ ہے ، کتب خانہ ہے

اک چٹائی ہے ،مصّلیٰ ہے ، کتب خانہ ہے

رہنا سہنا ترے درویش کا شاہانہ ہے

رونے والوں کی صدا آتی ہے ہر رات مجھے

دل نہیں ہے مرے سینے میں عزا خانہ ہے

یہ جو دنیا ہے تعاقب میں ،سمجھ والی ہے

یہ جو زنجیر لیے پھرتا ہے ، دیوانہ ہے

ہم سے پہلے سگِ درویش بتا دے گا تمہیں

کس کا کھانا ہے میاں ،کس کا نہیں کھانا ہے

میں نے دنیا سے محبت تو کبھی کی ہی نہیں

وہ تو اک ضد تھی کہ پا کر اسے ٹھکرانا ہے

فیصل عجمی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے