Ahwaal

کس طرح رہے بھرم ہمارا

یہ شعر و سخن ، یہ حرف و تمثیل

یہ غم کے بھرے ہوئے پیالے

جو کہہ نہیں پائے غم ہمارا

اس لوح کا ماجرا عجب ہے

اوروں کا تو ذکر سکیا ، کہ خود پر

احوال کھلا ہے کم ہمارا

دنیا کا گلہ کریں تو کیسے

خود سے بھی مکالمہ اگر ہو

ہم پر ہو بہت کرم ہمارا

کس عشق کی داد مانگتے ہم

اک جامِ سفال میں پڑا ہے

ٹوٹا ہوا جامِ جم ہمارا

ہم چپ کی نوا گری کے عادی

دھڑکن کا سراغ دے رہا ہے

آواز کا زیر و بم ہمارا

تصویر گری ہے سہل کتنی

رخسار پہ نقش بن رہے ہیں

اور اشک ہے مُوقلم ہمارا

آنکھوں میں کٹی تھی رات اور اب

خوشبو کی طرح سلگ رہے ہیں

کیا رنگ ہے صبح دم ہمارا

اشکوں سے گندھی ہوئی ہے مٹی

اس دشت کی آتشیں تمازت

کیا جذب کرے گی نم ہمارا

پتھریلے نکیلے راستوں پر

اک صفحۂ تر بہ تر پڑا ہے

یہ حال ہے بیش و کم ہمارا

سعود عثمانی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے