احمد ندیم قاسمی کی نذر

خدائے بحر و بر!
اس شر گزیدہ عہد کے نا مہرباں اور منحرف لوگوں کے
انبوہِ گراں میں کتنے ایسے لوگ ہیں جن کے قلم سے
روشنائی کی بجائے اُن کے اپنے ہی جگر کا خوں
ٹپکتا ہے
رگِ جاں سے نکل کر
کس کا حرفِ معتبر کاغذ کی سطحِ صاف پر ایقان
کی صورت اُترتا ہے، گل صد رنگ کے مانند کھلتا اور مہکتا ہے
سبھی تو ایک گہری چپ کی بُکّل مار کر بیٹھے ہوئے ہیں
مردہ لفظوں کی جگالی کر رہے ہیں، اپنے اپنے نام کی تختی کو سینوں پر سجائے اونگھتے ہیں، ان کی آنکھیں خواب سے خالی، دلوں کی دھڑکنیں خوشبوسے عاری اور ہاتھوں کی سبک پوریں عداوت اور منافق زاد سچائی سے بوجھل ہیں
مگر اک شخص ان کے درمیاں ایسا بھی ہے جس نے ہمیشہ سچ لکھاسچائی جیسا سچ لکھا،سچائی اور انسانیت کے پرچمِ خوش رنگ پر نورِ ہنر سے زندگی اور زندگی کے مسئلےکاڑھے
کسی دورِ شہنشاہی میں اپنے سر کوسینے پر جھکایا اور نہ انبوہِ غلاماں میں کھڑے ہو کر
خود اپنی خاک پھانکی اور نہ اپنے ساتھیوں کی خاک اڑائی ہے
وہ خوشبو کی طرح پاکیزہ ہے
وہ خوش ہنر ہے، خوش نظر ہے اور وہ اہل ہنر،اہل نظر کی اس طرح تکریم کرتا ہے کہ جیسے صبح، بادِ صبح کی تکریم کرتی ہے
خدائے بحر و بر مجھ کو
اِ سی اک خوش ہنر اور خوش نظر سچائی کے پیکر کے قدموں
میں جگہ دے دے
میں اس کے پاؤں کی مٹّی کو چھونا چاہتا ہوں
اور اس کے ہاتھ کی پوروں میں اُتری سچ کی بوندوں سے میں اپنی آنکھ کے برتن کو بھرنا چاہتا ہوں، اس کے لہجے میں دُکھوں کی جو نمی ہے وہ سفالِ دل میں رکھنا چاہتا ہوں اے خدائے بحر و بر!اس شخص کے خوابوں، خیالوں اور آدرشوں کی خاطر اور مستقبل کی ساری آرزوؤں کے لیے میں اپنی کشتِ جان تک کو وقف کر کے،ایک احساسِ ترفع سے دہکنا چاہتا ہوں، اے خدائے بحر و بر! مجھ کو ذرا اس خوش ہنر اور خوش نظر سچائی کے پیکر کے قدموں میں جگہ دے دے
ایوب خاور

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے