اگرچہ اب کے ہم اے ابر خشک مژگاں ہیں

اگرچہ اب کے ہم اے ابر خشک مژگاں ہیں
پہ جوش دل میں کبھو آگیا تو طوفاں ہیں
صنم پرستی میں اے راہباں نہ کی تقصیر
تم اہل صومعہ سے پوچھو وے مسلماں ہیں
کریں انھوں پہ بھلا کس طرح نظر گستاخ
بتان شہر ہمارے تو دین و ایماں ہیں
چمن میں جاکے بھرو تم گلوں سے جیب و کنار
ہم اپنے دل ہی کے ٹکڑوں سے گل بداماں ہیں
رہے ہیں دیکھ جو تصویر سے ترے منھ کو
ہماری آنکھ سے ظاہر ہے یہ کہ حیراں ہیں
رہا ہے کون سا پردہ ترے ستم کا شوخ
کہ زخم سینہ ہمارے سبھی نمایاں ہیں
شبیہ شکل سا ہے حال ضبط عشق کے بیچ
کہ رنگ روپ ہے سب کچھ ولیک بے جاں ہیں
بنے تو عزت عشاق میں نہ کر تقصیر
کہ ایسے لوگ پیارے عزیز مہماں ہیں
جو ابر دشت میں برسے تو ہم اڑاویں خاک
وہ میر آب ہے ہم یاں کے میر ساماں ہیں
میر تقی میر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے