اگرچہ اُس سے بچھڑ کر لکھا بہت کچھ ہے

اگرچہ اُس سے بچھڑ کر لکھا بہت کچھ ہے
نہیں ہے کام کا کچھ بھی کہا بہت کچھ ہے

زہے نصیب کہ لٹنے کہ بعد بھی گھر میں
سکوت و ظلمت و حبس و بلا بہت کچھ ہے

مرے پڑوس کی تختی بدل گئی پرسوں
ہوا تو کچھ نہیں، لیکن ہوا بہت کچھ ہے

وہ دیکھ ، بام کے اُوپر دھویں کے مرغولے
جلا تو خیر سے کم ہے، بجھا بہت کچھ ہے

اُسے نہ پاؤ گے جب تک مجھے نہ سمجھو گے
مرا رفیقِ مزاج آشنا بہت کچھ ہے

وہ شوق اور وہ شدّت کہاں مگر اب بھی
نگاہِ محو و دلِ مبتلا بہت کچھ ہے

اُسے قریب سے دیکھا کبھی نہیں ہم نے
مگر شعور کی بابت سُنا بہت کچھ ہے

انور شعور

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے