اگر تم کو گوارا ہو !

اگر تم کو گوارا ہو !

اگر تم کو گوارا ہو تو بس جاؤ نگاہوں میں
جہاں پر تم سے پہلے بھی شکستہ آرزوؤں کا
کھنڈر سا کوئی باقی ہے
اگر تم کو گوارا ہو
تو بس جاؤ نگاہوں میں
٭
جہاں لمحے سسکتے ہیں
جہاں خوشبو لرزتی ہے
جہاں پر آکے ہر دِن کی
مسافت آہ بھرتی ہے
اگر تم کو گوارا ہو
تو بس جاؤ نگاہوں میں
٭
جہاں پر شام ڈھلتے ہی
گھروں کو لوٹ آتے ہیں
کئی پنچھی اُداسی کے
ہمیں شب بھر رلاتے ہیں
اگر تم کو گوارا ہو
تو بس جاؤ نگاہوں میں
٭
جہاں ہم روز خوابوں کی
نئی دنیا بساتے ہیں
جہاں ہر صبح اُمیدوں کے
کھلونے ٹوٹ جاتے ہیں
اگر تم کو گوارا ہو
تو بس جاؤ نگاہوں میں
٭
جہاں پر گمشدہ روحیں
بھٹکنے روز آتی ہیں
جہاں پر آرزوئیں ہی
لکھی کتبوں پہ جاتی ہیں
اگر تم کو گوارا ہو
تو بس جاؤ نگاہوں میں
٭
جہاں خواہش کی تلخی کو
بدن محسوس کرتے ہیں
جہاں روحیں تڑپتی ہیں
جہاں لہجے لرزتے ہیں
اگر تم کو گوارا ہو
تو بس جاؤ نگاہوں میں
٭
تمہیں ہم تم سے پہلے کی
کوئی دنیا دکھائیں گے
اگر ممکن ہوا تو پھر
پرانے دُکھ بھلائیں گے
اگر تم کو گوارا ہو
تو بس جاؤ نگاہوں میں

شازیہ اکبر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے