اگر میں خواب کی تشکیل تک پہنچ جاؤں

اگر میں خواب کی تشکیل تک پہنچ جاؤں
تو کائنات کی تکمیل تک پہنچ جاؤں
کنول کا بیج ہوں اور خاک پر پڑا ہوا ہوں
دُعا کرو میں کسی جھیل تک پہنچ جاؤں
بُلند ہوتی ہوئی خاک کی تمنا ہے
میں آسمان کی تحویل تک پہنچ جاؤں
میں بے نیاز ہوں تجھ سے وگرنہ چاہوں تو
تری خموشی سے تفصیل تک پہنچ جاؤں
میں آفتاب پہ چلتا ہوں اور سوچتا ہوں
تمہارے حُسن کی قندیل تک پہنچ جاؤں
شجاع شاذ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے