اگر کرنا نہیں ہے پیار ساجن

اگر کرنا نہیں ہے پیار ساجن
تو پھر کس بات کی تکرار ساجن

ترے ہاتھوں کی کٹھ پتلی نہیں ہوں
میں ہوں ابریشمی سی نار ساجن

اگر تُو شہر کا بانکا سجیلا
تو میں ہوں گاؤں کی مٹیار ساجن

تجھے دیکھوں تو کِھل اٹھتا ہے چہرہ
تُو میرے واسطے سنگھار ساجن

پہن لیں چوڑیاں پازیب جھمکے
تو لے آ موتیوں کا ہار ساجن

زمیں کی گَرد سے مجھ کو بچا کر
تُو لے چل چاند کے اس پار ساجن

مجھے دونوں جہاں کی نعمتوں میں
تمھارا ساتھ ہے درکار ساجن

تُو ہے ناراض تو میں بھی خفا ہوں
نہ کر تِرچھی نظر کے وار ساجن

ترا یوں دیکھنا وارفتگی سے
مری خفگی میں ہے بیکار ساجن

منزّہ سیّد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے