آگہی آگ ہے

آگہی آگ ہے

ان گنت کی شماری تو ممکن نہیں
ایک پاتال ہے
جو کھچا کھچ بھرا ہے
سیڑھیوں پر اچنبھے کی پھسلن سجی ہے
وہاں
گِل گامش کی نظموں کے ڈھیروں میں کیڑا لگا ہے
ارسطو کی خالی, خیالی سی دنیا کا ڈھانچہ دھرا ہے
طربیہ, خداوندِ برتر پہ دھیمے سے ہنستی رہی ہے
گوئٹے ایک کونے میں سبکا پڑا ہے
کھچا کھچ علم و الم کے بکھیڑے
زمانے نے جن کو سروں پہ اٹھایا
زمانے کے ہاتھوں جو رسوا ہوئے تھے ___ سبھی ایک بنڈل میں اوندھے پڑے ہیں
نئی روشنی کی کوئی درز پاتال میں کھوجنا,
اب گناہ بن گیا ہے

آگہی آگ جنتی چلی آ رہی ہے
___ جو پہلے ہماری ضرورت بنی تھی
مگر جب وہ آپے سے باہر ہوئی تو
ہر ایک چیز خاکستر ہو گئی تھی
آگ جلتی رہی تھی

عادل وِرد
اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے