اے وطن تو ہمیشہ سلامت رہے

اے وطن تو ہمیشہ سلامت رہے
دنیا بھر میں تری ہی امامت رہے
اے وطن اے وطن اے گلوں کےچمن
میرے دل کی تمنا شہادت رہے
تجھ پہ سایہ فگن ہے خدا مہرباں
تو رہا سُر خرُو در سبھی امتحاں
تو زمانے میں توحید کا ترجماں
دنیا کے نقشے پہ تو خدا کا نشاں
تجھ کوحاصل خدا کی حمایت رہے
اے وطن تو ہمیشہ سلامت رہے
آستیں کےجودشمن ہیں مرعوب ہیں
آگٸے سامنے جو بھی مضروب ہیں
سرحدوں سےجوباہر ہیں مغلوب ہیں
ملک میں جو پنپتے ہیں معتوب ہیں
سر نگوں ہر قسم کی بغاوت رہے
اے وطن تو ہمیشہ سلامت رہے
ہیں زمانے میں زندہ راویات بھی
دنیا جانے ہے تیرے کمالات بھی
سارے طبقات میں ہے مساوات بھی
تجھ پہ برسیں خداکی عنایات بھی
دنیا میں عالی تیری سیاست رہے
اے وطن تو ہمیشہ سلامت رہے
ہیں بہادر سجیلے یہ فوجی جواں
جو چلیں تو لگیں مثلِ بحرِ رواں
قدموں کےہیں زمیں پر اِنھی کےنشاں
اپنے خوں سےلکھیں عزم کی داستاں
تو سلامت رہے تا قیامت رہے
اے وطن تو ہمیشہ سلامت رہے
ڈاکٹرمحمدالیاس عاجز

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے