اے رنجِ آگہی،کوئی چارہ تو ہو گا نا

اے رنجِ آگہی ، کوئی چارہ تو ہو گا نا
چل، خوش نہ رہ سکیں گے ، گزارا تو ہو گا نا
یہ آرزو بھی وقت کے دھارے میں بہہ گئی
اب ناں سہی ، کبھی وہ ہمارا تو ہو گا نا
جاتی ہے جو متاعِ دل و جاں تو کیا ملال
یہ عشق کی دکاں ہے ، خسارہ تو ہو گا نا
ہر آن جسکا ذکر ہے، اس بےنیاز نے
بُھولے سے میرا نام ، پکارا تو ہو گا نا
میں زادِ رہ کے طور پہ بس خواب لائی ہوں
اے ہمسفر تجھے یہ گوارا تو ہو گا نا
کیا اجنبی بنیں گے اگر پھر کبھی ملے؟
کیا بات بھی نہ ہوگی ؟ اشارہ تو ہو گا نا!
کرنا کرانا چھوڑ ، زبانی ہی ساتھ دے
تنکے کا ہو اگرچہ ، سہارا تو ہو گا نا
صائمہ آفتاب

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے