اے مری بے سہاگ تنہائی

اے مری بے سہاگ تنہائی

اس سے پہلے کہ سوچ کا کندن
شام غم کے اجاڑ صحرا میں
جل بجھے ، بجھہ کے راکھہ ہو جائے
اس سے پہلے کہ چاند کا جھومر
درد کی جھیل میں اتر جائے
اور خواہش کی چاندنی کا غبار
وقت کی آنکھہ میں بکھر جائے
اس سے پہلے کہ اپنے دل کی رگیں
ایک اک کر کے ٹوٹتی جائیں
اور طنابیں گلاب خوابوں کی
اپنے ہاتھوں سے چھوتی جائیں
اس سے پہلے کہ گھیر لے مجھہ کو
ہر طرف سے جلوس رسوائی
قربتوں کے نشاں مٹا ڈالے
ہجر کے زلزلوں کی انگڑائی
اے میری بے سہاگ تنہائی
مجھہ سے پرسہ لے اپنے پیاروں کا
بجھتے اشکوں کے ان ستاروں کا
جو ہر اک اجنبی کے رستے میں
نور کی چادریں بچھاتے تھے
جو کسی صبح زاد کی دھن میں
رات بھر روشنی لٹاتے تھے
اے میری بے سہاگ تنہائی
آ میرے پاس مجھہ سے پرسہ لے
ان گلابوں کا ان صحابوں کا
حبس کی رت میں جو برستے تھے
جن کے پل بھر کے لمس کی خاطر
موسموں کے بدن ترستے تھے
اے مری بے سہاگ تنہائی
اس سے پہلے کہ سانس تھک جائے
شوق ڈھونڈے نئی گزر گاہیں
اس سے پہلے کہ بے نشاں ٹھہریں
حسرت قرب کی سبھی راہیں
میری گردن میں ڈال دے بانہیں
جز مرے کون تجھہ کو چاھے گا
میں بھی تیری طرح اکیلا ہوں
آنکھہ میں تشنگی کا صحرا ہے
دل میں پاتال کی سی گہرائی
اور کیا ہو رہ شناسائی
اے مری بے سہاگ تنہائی

محسن نقوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے