اے غم دل یہ ماجرا کیا ہے

اے غم دل یہ ماجرا کیا ہے
درد الفت سے واسطہ کیا ہے
رہنے دو ان حسین وعدوں کو
جھوٹے وعدے ہیں سب نیا کیا ہے
جام و مینا کو چھوڑ کر دیکھو
چشم ساقی کا یہ نشہ کیا ہے
شعلۂ غم کو اور بھڑکائے
کون سمجھے کہ یہ ہوا کیا ہے
چھن گیا ہے سکون بھی میرا
عاشقی نے مجھے دیا کیا ہے
چارہ گر کوئی بھی نہ جان سکا
موت اور عشق کی دوا کیا ہے
کیا بھروسہ ہے زندگانی کا
جانے تقدیر میں لکھا کیا ہے
چشم پر نم مگر لبوں پہ ہنسی
دل میں موناؔ ترے چھپا کیا ہے
ایلزبتھ کورین مونا

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے